پرویز مشرف کا کورٹ مارشل ممکن ہے؟

Image caption پرویز مشرف کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے معاملے پر قانونی ماہرین کی آرا میں نمایاں تضاد پایا جاتا ہے۔

سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین سول عدالت میں تو ابتدائی ہی سہی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے لیکن کیا انہی الزامات کے تحت جنرل مشرف کے خلاف فوجی قانون، یعنی کورٹ مارشل کی کارروائی ممکن ہے؟ یہ سوال آج کل فوجی قانون کو سمجھنے والے حلقوں میں زیربحث ہے۔

تین نومبر سنہ دو ہزار سات کی رات ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے کی جانے والی تقریر کے دوران صدر پرویز مشرف نے سیاہ رنگ کی شیروانی پہن رکھی تھی لیکن وہ اس وقت فوجی سربراہ کے عہدے پر بھی فائز تھے۔

اسی بنا پر بعض قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر اس رات کیے جانے والے مبینہ جرائم کی وجہ سے فوجی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے۔

فوجی قانون کے ماہر کرنل ریٹائر انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کی رات آئین کو پامال اور ججوں کو نظر بند کر کے جو جرم کیا، وہ تعزیراتِ پاکستان کے علاوہ فوجی قوانی کی بھی خلاف ورزی تھا۔

کرنل انعام کے مطابق فوجی قوانین کے شق انسٹھ میں ایسے جرائم درج ہیں جن کی نوعیت سول ہے لیکن ان کے خلاف سول کے علاوہ، اگر فوج مناسب سمجھے تو فوجی عدالت میں بھی مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

کرنل انعام فوجی قانون کی جس شق کا حوالہ دے رہے ہیں، اس کے تحت ان فوجیوں کے خلاف جو عام جرائم میں ملوث ہوں، عام عدالتوں کے علاوہ فوجی عدالتوں میں بھی مقدمات چلائے جا سکتے ہیں۔

تاہم پاکستانی فوج کے قانونی شعبے، جیگ برانچ کے سابق سربراہ بریگیڈیئر واصف نیازی کہتے ہیں کہ اس قانون کے تحت فوجی ملازم کو اگر ریٹائر ہوئے چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر جائے تو یہ قانون نافذالعمل نہیں رہتا۔

یہ بحث اب اتنے مشکل مرحلے میں داخل ہو ہی گئی ہے تو یہ بھی سن لیجئے کہ ملک سے بغاوت یا آئین توڑنا اتنا بڑا جرم ہے کہ جس پر، کرنل انعام کے مطابق، سزا دینے کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بغاوت اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کے تحت کارروائی کرنے کے لیے چھ ماہ کی قید نہیں ہے۔ جب بھی جرم کا ثبوت ملے کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔‘

پاکستانی فوج میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں ریٹائرڈ فوجی افسران کو ملازمتوں پر بحال کر کے ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کی گئی۔

اس کی تازہ مثال بریگیڈیئر علی خان، لیفٹنٹ جنرل خالد منیر اور لیفٹنٹ جنرل افضال مظفر کی ہے جنہیں مالی بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت کورٹ مارشل کی کارروائی کا سامنا ہے تو کیا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ملازمت پر بحال کر کے ان پر آئین سے بغاوت کے الزام کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے؟

فوجی قانون کے ماہر بریگیڈیئر واصف نیازی ایسا نہیں سمجھتے: ’آئین سے بغاوت کے جرم میں کارروائی کیسے ہو گی اور کون سی عدالت میں ہو گی، یہ ساری تفصیل آئین میں درج ہے۔ یہ تعزیراتِ پاکستان اور فوجی قوانین سے بالاتر ہے۔ لہذا یہ تصور کرنا کہ فوجی قانون کو آئین کے آرٹیکل پر فوقیت دی جا سکے گی، غیر منطقی دلیل ہے۔‘

پرویز مشرف کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے معاملے پر قانونی ماہرین کی آرا میں نمایاں تضاد پایا جاتا ہے۔ لیکن جس نکتے پر سب متفق نظر آتے ہیں وہ یہ ہے کہ سابق فوجی سربراہ کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے سب سے ضروری امر موجودہ فوجی قیادت کا اپنے سابق سربراہ کے خلاف کارروائی کرنے پر متفق ہونا ہے جس کا امکان، سیاسی مبصرین کے مطابق فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔

اسی بارے میں