حیدرآباد میں متحدہ کے امیدوار ہلاک

Image caption فخر الاسلام نے حلقہ 47سے صوبائی اسمبلی کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرائے تھے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں متحدہ قومی مومنٹ کے گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں امیدوار کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

صحافی علی حسن کے مطابق فخر الاسلام عرف پپو جمعرات کو صبح کے وقت اپنی دوکان پر جا رہے تھے کہ جہاں وہ ٹرانسپورٹ کمپنی چلاتے تھے۔ وہ راستے میں ایک اور دوکان پر رک کر بیٹھ گئے تھے کہ موٹر سائکل پر دو افراد آئے اور انہوں نے ان پر براہ راست تین گولیاں چلائیں۔

ماتھے اور سینے پر لگنے والی گولیوں کے باعث وہ شدید زخمی ہو گئے تھے ۔ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی راستے میں انہوں نے دم توڑ دیا ہسپتال میں تو ڈاکٹروں نے صرف ان کی ہلاکت کا اعلان کیا۔

ان کے ساتھ جو لوگ ہسپتال آئے تھے انہوں نے ہنگامہ آرائی کی جس کے سبب ڈاکٹر اور عملہ بھی غائب ہو گیا۔

فخر الاسلام پختون تھے۔ وہ چار بچوں کے والد تھے اور ان کی عمر 45سال کے لگ بھگ تھی۔

ادھر کلعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے بی بی سی کو ٹیلیفون کرکے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

فخر اسلام کے والد حاجی عمران پٹھان حیدرآباد کے مشہور ٹراسنپورٹر اور پیٹرول پمپوں کے مالک ہیں۔ پیپلز پارٹی کے آغاز میں وہ پیپلز پارٹی سے وابستہ تھے۔ کاروباری شخصیت ہونے کی وجہ سے وہ حیدرآباد میں ایک سلجھی ہوئی شخصیت قرار دئے جاتے تھے۔حاجی عمران پٹھان معزوری کے باعث گھر پر ہی رہتے ہیں۔

فخر الاسلام نے حلقہ 47سے صوبائی اسمبلی کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرائے تھے۔

اس حلقے سے متحدہ نے سات افراد سے کاغذات داخل کرائے تھے اور کل 71 امیدوار تھے جن میں سے65 کے کاغزات منظور کر لئے گئے تھے۔ قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے فخر الاسلام کے چھوٹے بھائی افتخار الاسلام نے بھی متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہوئے ہیں۔

ایس ایس پی حیدرآباد اسماعیل ثاقب میمن نے کہا کہ سر دست اس قتل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ فخراسلام کونشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے اس لیے یہ ٹارگٹ قتل کے زمرے میں آتا ہے۔

فخر السلام عرف پپوکا جس علاقے میں کاروبار ہے وہ علاقہ ہالہ ناکہ کے نام سے مشہور ہے بعض لوگوں نے اسے دشمنی کا نتیجہ قرار دیا۔

حاجی عمران پٹھان نے البتہ کہا کہ ان کی یا ان کے بچوں کی کسی کے ساتھ کوئی ناچاقی نہیں تھی اس لیے دشمنی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

فخر الاسلام کے قتل کے بعد بعض علاقوں میں نوجوانوں نے کاروبار بند کرانے کی کوشش کی اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

اسی بارے میں