’فوج کے جج ایڈوکیٹ جنرل اپنے بیان کی وضاحت کریں‘

Image caption عدالت نے اس مقدمے کی سماعت پندرہ اپیل تک ملتوی کر دی

سپریم کورٹ نے فوج کے جج ایڈووکیٹ جنرل سے کہا ہے کہ وہ عدالت میں اپنے بیان کی وضاحت کریں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ2010 میں اڈیالہ جیل سے لاپتہ ہونے والے گیارہ قیدی اگر فوجی قافلوں اور تنصیبات پر حملوں میں ملوث نہ ہوئے تو انہیں رہا کردیا جائے گا لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ فوج کا جج ایڈووکیٹ جنرل برگیڈئیر رینک کا افسر ہوتا ہے اور اُن کی تعیناتی فوج کے جنرل ہیڈ کوراٹر میں ہوتی ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے باہر سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے گیارہ قیدیوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب ان افراد کے خلاف فوجی قافلوں پر حملوں کے ثبوت نہیں ملے تو پھر ان کے خلاف کس طرح کارروائی کی جا سکتی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل راجہ ارشاد کی جانب سے عدالت میں بیان جمع کروایا گیا تھا کہ انہیں ایسے شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہوسکے کہ یہ افراد فوجی قافلوں پر حملوں میں ملوث ہیں اس لیے ان کے خلاف فوجی قانون کے تحت کارروائی نہیں ہو سکی۔

فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان افراد کے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں جو ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے ان افراد کو سزائیں نہیں مل رہیں جس سے شدت پسند مضبوط ہو رہے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا جب فوج کی جیگ برانچ کے سربراہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آ یا کہ ان افراد کے فوجی تنصیبات یا فوجی قافلوں کو نشانہ بنانے سے متعلق کوئی شواہد نہ ملے تو انہیں رہا کردیا جائے گا تو ابھی تک ایسا کیوں نہیں ہوا؟

فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل نے کہا کہ چونکہ یہ بیان جیگ برانچ کے سربراہ نے دیا ہے اس لیے وہ ہی اس کی وضاحت کرسکتے ہیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا ان افراد کے خلاف ایف سی آر قانون کے تحت کارروائی ہو رہی ہے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے ایف سی آر قبائلی علاقوں میں نافذ کیا گیا ہے جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی صدر کسی عدالت کے سامنے جواب دہ ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ قانون اتنا موثر ہوتا تو پھر اس کو چیلنج کیوں کیا جاتا؟

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو انسانی حقوق سے متصادم ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث شدت پسندوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق تو مارشل لاء کے دور میں بھی معطل نہیں ہوتے۔

اُنہوں نے کہا کہ ان افراد سے متعلق عدالت کے ساتھ بلی چوہے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور جس نے بھی عدالت کے سامنے جھوٹ بولا ہے اسے اس کا خمیازہ بُگتنا پڑے گا۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت پندرہ اپیل تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ 29 مئی 2009 کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہونے والے گیارہ افراد کو خفیہ اداروں کے اہلکار اڈیالہ جیل کے باہر سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے بعدازاں عدالت کو بتایا گیا کہ یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔ جن میں چار افراد ہسپتال میں ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں