سندھ: اعلیٰ افسران کے تبادلوں کی ہدایت

Image caption جن افسران کی تبدیلی کے احکامات دیے گئے ان کے خلاف جانبداری کی شکایات ملی تھیں

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صوبہ سندھ کی حکومت کو صوبے کے چیف سیکرٹری سمیت 65 سرکاری افسران کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تبدیل کیے جانے والے افسران کی جگہ وسیع تر اعتماد والے افسران مقرر کیے جائیں۔

الیکشن کمیشن کے ایک بیان میں ان افسران کی فہرست بھی دی گئی ہے جن میں صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کے ساتھ ساتھ پولیس کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کی سطح کے افسران بھی شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے جن افسران کے فوری تبادلے کا حکم دیا ہے ان میں سرفہرست صوبے کے چیف سیکرٹری ہیں جبکہ داخلہ، تعلیم، بلدیات، سروسز اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے محکموں کے صوبائی سیکرٹری، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری، کراچی کے سٹی کمشنر، ڈائریکٹر فوڈ سکھر، جامشورو اور نوشہرو فیروز کے ڈپٹی کمشنر، کئی علاقوں کے ای ڈی او تعلیم، مختیار کاروں کے علاوہ جیکب آباد، جامشورو، کشمور، مٹیاری، میرپورخاص، نوشہروفیروز، نوابشاہ، شکارپور، ٹنڈو الہ یار، تھرپارکر اور عمرکوٹ کے ایس ایس پی حضرات کو بھی تبدیل کرنے کو کہا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کمیشن نے دو اپریل کو مرکز اور صوبوں کی نگراں حکومتوں کو تمام وفاقی اور صوبائی سیکرٹریوں کو تبدیل کرنے کی ہدایت کی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اگر ان کے خیال میں کوئی سیکرٹری آزاد ہے اور انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں تو انہیں تبدیل نہ کیا جائے اور الیکشن کمیشن کو اس بارے میں مطلع کریں۔

کمیشن کے مطابق دو اپریل کو ہی اس نے وفاقی اور نگراں حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ تمام خودمختار اور نیم خود مختار سرکاری اداروں کے سربراہوں کے علاوہ پولیس کے صوبائی اور ضلعی سربراہوں، کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں، تھانیداروں، پٹواریوں اور ای ڈی اوز کے بھی جانچ کریں کہ آیا وہ آزاد ہیں یا نہیں اور غیرجانبدار نہ ہوں، انہیں تبدیل کردیا جائے۔

مگر اس کے بقول صوبہ سندھ میں کمیشن کی ہدایت کے مطابق کسی افسر کو تبدیل نہیں کیا گیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو اس کی وجہ سے آگاہ کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ کے جن 65 اہلکاروں کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ان کے خلاف کمیشن کو کئی شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں ان افسران پر مختلف سیاسی جماعتوں کی طرفداری کا الزام لگایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن کے احکامات پر صوبہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں