’تیراہ میں پندرہ شدت پسند ہلاک‘

Image caption تیراہ میں خیبر ایجنسی کی تین مختلف تحصیلوں کے قبائلی آباد ہیں

پاکستان کے فوجی حکام کے مطابق ملک کے قبائلی علاقے تیراہ میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جاری لڑائی کے ساتویں روز جمعرات کو پندرہ شدت پسند جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تیراہ کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں پندرہ شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ اس دوران سکیورٹی فورسز کا اہلکار بھی ہلاک ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ میدان کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے کئی اہم ٹھکانے یا تو تباہ کر دیے ہیں یا ان کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اہلکار کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کارروائی میں توپخانے کا بھی استعمال کیا۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بتایا کہ وہ تیراہ کے مختلف علاقوں پر قابض ہے اور ان کو اتنا نقصان نہیں پہنچا ہے جتنا کے حکام بتا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جمعرات کو آمن کیمٹی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا ہے جس میں آمن کیمٹی کو کافی جانی نقصان پہنچا ہے لیکن سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ادھر مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تیراہ میں تحصیل باڑہ کے علاقے ملک الدین خیل، برقمبر خیل، شلوبر اور تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے کوکی خیل پر لشکرِ اسلام اور تحریکِ طالبان کے جنگجووں کا بدستور قبضہ ہے۔

خیال رہے کہ اسی کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے تیراہ میں خیبر ایجنسی کی تین مختلف تحصیلوں کے قبائلی آباد ہیں جس میں تحصیل باڑہ کے علاقے سپا کمبرخیل برقمبرخیل شلوبر، ملک الدین خیل، اکاخیل، طوری خیل اور کالا خیل شامل ہیں۔

تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے ذخہ خیل، گگرانی اور بازار ذخہ خیل جبکہ تحصیل جمرود کی کوکی خیل، زوجہ گل اور سڑہ الگڈ کے علاقے شامل ہیں۔اس کے علاوہ تیراہ میں سکھ برداری کے لوگوں کے مکانات بھی ہیں لیکن خراب حالات کی وجہ سے وہ کچھ عرصہ پہلے پشاور اور مضافاتی علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔

تیراہ کے جنوب مشرق میں اورکزئی اور جنوب مغرب میں کرم ایجنسی واقع ہے۔ تحصیل لنڈی کوتل اور تحصیل جمرود کے علاقے افغان سرحد کے قریب ہیں جہاں ذخہ خیل کے علاقے میں توحیدالسلام کے جنگجو موجود ہیں اور تحصیل باڑہ کے اکثر علاقوں پر لشکر اسلام اور تحریک طالبان کا قبضہ ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تیراہ کے مختلف علاقوں پر انصار الاسلام کے جنگجووں کا قبضہ تھا لیکن گزشتہ ایک عرصے سے تحریک طالبان پاکستان اور لشکر اسلام کے اتحاد کے بعد اکثر علاقوں پر انصارالاسلام کے جنگجووں کا قبضہ کمزور پڑ گیا ہے۔

خیال رہے کہ تیراہ میں اس سے پہلے تحریک طالبان پاکستان اور انصارالاسلام کا اتحاد تھا تاہم بداعتمادی کی وجہ سے وہ اتحاد ٹوٹ گیا تھا۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کچہ عرصہ پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ طالبان نے امن کی خاطر انصار الاسلام کے ساتھ معاہدہ کیا تھا تاہم انصار الاسلام نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور انتیس طالبان کو ہلاک کر دیا تھا۔

خیبر ایجنسی میں لشکر اسلام اور انصارالاسلام کے جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ کئی سالوں سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں