احمدی اخبار کے مدیر پر دہشت گردی کا مقدمہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے احمدیہ جماعت کے اخبار کے مدیر سمیت چھ افراد کے خلاف توہین مذہب اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

جماعت احمدیہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں ان افراد کو حراست میں لیے جانے والے واقع کی مذمت کی گئی ہے۔

لاہور کے اسلام پورہ پولیس سٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق احمدیہ جماعت کے اخبار الفضل کے ایڈیٹر عبدالسمیع خان، پرنٹر طاہر مہدی امتیاز احمد اور دیگر چار مزید افراد پر دہشت گردی ایکٹ اور توہین مذہب کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق حراست میں لیے گئے چار افراد میں خالد اشفاق، طاہر احمد، فیصل احمد طاہر اور اظہر ظریف شامل ہیں۔

درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ خالد اشفاق جو کہ علاقہ کریم پارک کے جماعت احمدیہ کے مقامی صدر بھی ہیں وہ اخبار الفضل تقسیم کر رہے تھے۔

اس پر محلے داروں نے پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس نے خالد اور طاہر احمد کو اخبار الفضل کے ساتھ حراست میں لیا۔

تاہم احمدی جماعت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں ان افراد کو حراست میں لیے جانے والے واقع کی مذمت کی گئی ہے۔

اس بیان میں ان افراد پر لگائے گئے الزامات کی بھی تردید کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ الفضل اخبار صرف احمدی جماعت کے لیے ہے اور اس کا شمار پاکستان کے قدیم ترین اخبارات میں ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اخبار پر صاف الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ یہ اخبار صرف احمدی حضرات کے لیے ہے۔

اسی بارے میں