’بلوچ عوام ترقیاتی کاموں کا منشور نہیں چاہتے‘

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے وسطی علاقے میں واقع ایک عمارت کے زیریں حصے میں پینا فلیکس کی چھپائی کا کام جاری تھا جہاں پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کی سربراہ محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنماؤں کے بینر تصاویر تعداد میں چھپ چکی ہیں۔

نوجوان دکاندار محمد جعفر نے خوشی کا اظہار کیا کہ موجودہ انتخابات میں کاروبار اچھا چل رہا ہے اور اس کی وجہ تمام ہی جماعتوں کی انتخابی عمل میں شرکت ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ انتخابات کا بلوچ اور پشتون قومپرست جماعتوں نے بھی بائیکاٹ کیا تھا جس کی وجہ سے سیاسی گہماگمی اور ووٹروں کا ٹرن آوٹ کم رہا۔ لیکن اس بار شہر میں سیاسی جماعتوں کے بینر اور جھنڈے واضح طور پر نظر آتے ہیں اس کے علاوہ دکانوں پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بھی بیجز دستیاب ہیں۔

اس سے پہلے بلوچ عوام میں ریاست مخالف جذبات کی وجہ سے پارلیمانی سیاست میں یقین رکھنے والی قومپرست جماعتیں عوامی اجتماع سے گریز کرتی تھیں لیکن موجودہ انتخابات میں انہوں نے بالآخر عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کی تقریباً چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد واپسی سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ ان کے استقبال کے لیے ایک بڑے عرصے کے بعد ہزاروں لوگ سڑک پر آئے اور دارالحکومت کی سڑکیں بلوچی گیتوں سے گونج اٹھیں۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل نے عوام کے لیے کسی ترقیاتی یا تعمیری منشور کا اعلان نہیں کیا کیونکہ وہ اسے غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔

’بلوچستان کے لوگ مشکل سے ہی اس کا مطالبہ کریں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت یہ منشور لے کر جائے گی بھی تو لوگ ایک پل کے لیے بھی ان کی طرف نہیں دیکھے گی۔ لوگوں کی درد بھری نگاہوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ترقیاتی منصوبے کے بجائے انہیں اپنے بچوں کی باحفاظت واپسی پیاری ہے۔‘

بلوچ آبادی میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سیاسی سرگرمیاں چاردیواری کے اندر کی جارہی ہیں۔ منوں جان روڈ پر واقعے علاقے ہدا میں نیشنل پارٹی کے امیدوار ٹکری شفقت اللہ لانگو کی کارنر میٹنگ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ انہیں بھی وہ ہی موقف رکھنا پڑ رہا تھا جو عوام سننا چاہتے ہیں۔

شفقت اللہ لانگو نے لوگوں کو بتایا کہ بلوچستان کے جو معدنی وسائل ہیں، وہ زمین کے باہر ہوں یا اندر ان پر بلوچوں کا حق ہے اور یہ وسائل یہاں کے لوگوں پر ہی خرچ ہونے چاہیئیں۔

بلوچ علیحدگی پسندوں کی مہم بھی جاری ہےاور وہ لوگوں کو انتخابات سے دور رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ہدا میں انہوں نے گھروں میں پمفلیٹ بھی تقسیم کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انتخابات مسائل کا حل نہیں۔

بلوچ قوم پرست جماعتوں کے مطالبات تو ایک جیسے ہیں لیکن شخصی اختلافات کے باعث ان جماعتوں میں اتحاد نہیں ہوسکا ہے۔ کیا اتحاد کے بغیر کامیابی ممکن ہوگی؟

صحافی انور ساجدی اس کا جواب نفی میں دیتے ہوئے کہتے ہیں ’قوم پرست جماعتوں میں اتحاد کے لیے مذاکرات تو جاری ہیں۔ پینسٹھ صوبائی نشستوں میں سے اگر آٹھ نشستیں بھی حاصل کرلیں تو وہ اکثریت کی نمائندگی کا دعویٰ تو نہیں کرسکتے، لیکن صرف یہ ہی ظاہر کریں گے کہ یہ ہماری طاقت ہے۔‘

جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام اس سے پہلے مل کر انتخابات لڑتے رہے ہیں اس بار حریف کے طور پر مد مقابل ہیں۔

مذہبی جماعتوں کی توجہ کا مرکز پشتون آبادی ہے جہاں ان کے نظریاتی ووٹر ہیں۔ بلوچ آْبادیوں کے برعکس ان علاقوں میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

سینیئر صحافی اور روزنامہ آزادی کے مدیر صدیق بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان پر دس سال تک جن قوتوں نے حکومت کی وہ عوام میں مقبول نہ تھیں۔ ’قوم پرستوں کو عوام میں پذیرائی حاصل ہے۔ اگر حالات سازگار رہے اور بلوچ قوم پرست جماعتیں انتخابات میں حصہ لیتیں ہیں تو ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہوگا ورنہ اس میں انتہائی کمی ہوگی۔‘

اسی بارے میں