سوشل میڈیا اور الیکشن 2013

Image caption خرم دستگیر کا ٹوئٹر کا صفحہ

میں ایک جمعے کے دن پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر کے گھر پر ان کا انتظار کر رہی تھی۔ غلام سرور دستگیر روڈ کے کونے پر واقع ان کا گھر باہر سے تو بظاہر پرانی طرز کا لگتا ہے، اونچی چھتیں اور برآمدہ وغیرہ۔ تاہم اندر جائیں لکڑی کا چمچماتا فرش اور جدید انداز کا سامانِ آرائش استقبال کرتا ہے۔

جب فون ہاتھ میں تھامے کلف والا کرتا شلوار پہنے خرم دستگیر لِونگ روم میں داخل ہوئے تو ایسا لگا جیسے انھوں نے تازہ تازہ آفٹر شیو لوشن لگایا تھا۔

ان کا وقت فون کال ملانے اور سننے کے لیے کم اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر دیکھنے کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ میں نے بھی جب ان سے انٹرویو کا وقت مقرر کرنے کے لیے رابطہ کیا تو انھوں نے ایس ایم ایس اور فون کے ذریعے تو جواب جلد نہیں دیا مگر ٹوئٹر پر جواب فوری ملا۔ خرم دستگیر ملک کے ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جنھوں نے سوشل میڈیا کو اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔

سیاست دانوں کی نئی نسل کے علاوہ اب بہت سے روایتی سیاست دان بھی جدید ترین سماجی ویب سائٹوں سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔

اراکینِ پارلیمان کو تربیت فراہم کرنے والی سماجی کارکن ماروی سرمد کے مطابق سابق رکنِ پارلیمان ماروی میمن نے اس رجحان کا آغاز کیا تھا۔

’وہ اسمبلی سے براہِ راست ٹوئٹ کیا کرتی تھیں اور جب دیگر اراکین کو میں بتاتی تھی کہ ہمیں قومی اسمبلی کے اندر کی باتیں فوراً ہی معلوم ہو جاتی ہیں تو وہ ہنستے تھے کہ ماروی بچی ہے، ہر وقت فون سے کھیلتی رہتی ہے۔‘

لیکن سیاست دان صرف انفرادی طور پر ٹوئٹر نہیں استعمال کرتے، اس کے ذریعے اپنی اپنی جماعتوں کا پروپیگینڈا اور اپنی سیاسی سرگرمیوں کی تشہیر بھی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انتخابات کے دنوں میں یہ وسیلہ اور بھی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔

ماروی میمن کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور انفرادی سیاست دانوں میں گذشتہ ایک سال سے یہ رجحان زیادہ نظر آیا ہے۔ ’تحریکِ طالبان پاکستان نے پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے جلسوں پر حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔ تو بڑے بڑے جلسے کم نظر آئیں گے، بلکہ سوشل میڈیا انتخابی مہم کا حصہ بنے گا۔‘

2013 کے انتخابات کئی لحاظ سے تاریخی ہیں جن میں سوشل میڈیا کا عنصر بھی شامل ہے۔ اس دوران بہت سے لوگوں کو یہ دیکھنے کا اشتیاق ہے کہ ان انتخابات میں سوشل میڈیا کیا کردار ادا کرے گا۔

کئی بڑی اور چھوٹی جماعتوں اور ان کے بعض رہنماؤں نے اپنے اپنے فیس بک پیج اور ٹوئٹر ہینڈل بنا رکھے ہیں اور انھیں باقاعدگی سے استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان میں جماعتِ اسلامی کی سمیعہ راحیل قاضی، اے این پی کی بشریٰ گوہر، شہباز شریف، شیخ رشید، ڈاکٹر فاروق ستار، نبیل گبول وغیرہ شامل ہیں۔

تاہم ماروی سرمد کا کہنا ہے کہ پروپیگینڈا کے علاوہ سوشل میڈیا کی طاقت سمجھنے والی جماعتیں پاکستان تحریکِ انصاف اور کچھ حد تک مسلم لیگ ن ہی ہیں۔

Image caption پاکستان تحریکِ انصاف نے سب سے پہلے سوشل میڈیا کی اہمیت سمجھی۔

’پاکستان تحریکِ انصاف نے سب سے پہلے سوشل میڈیا کی اہمیت سمجھی۔ ان کے طریقۂ کار سے اختلاف ضرور ہو سکتا ہے، لیکن یہ اعزاز انہی کو جاتا ہے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف نے 2006 میں سوشل میڈیا سیل کی بنیاد رکھی جس کے لیے اب دنیا بھر میں 30 رضاکار کام کرتے ہیں۔ اس سیل کی ایک رکن نویدہ سلطان نے بتایا کہ اس کی ضروت اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ اس وقت میڈیا پی ٹی آئی کو گھاس نہیں ڈالتا تھا۔ ’باقی پارٹیوں کی غیر اہم سرگرمیوں کو بھی کوریج ملتی تھی جبکہ ہمارا بڑے سے بڑا ایونٹ کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ اسی لیے ہم نے متبادل ذرائع استعمال کرنا شروع کیے۔ ہماری دو طرفہ حکمتِ عملی ہے۔‘

ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کے میڈیا سیل کے رکن فیض خان لندن سے چھٹی لے کر انتخابات میں جماعت کی مدد کرنے آئے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کی حکمتِ عملی میں موبائل فون کو بھی شامل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ پاکستان میں 12 کروڑ موبائل سِمیں بھی ہیں۔ ہم ایس ایم ایس کے ذریعے بھی لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ ان انتخابات میں ہم سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں سیکھ رہے ہیں۔‘

لیکن یہ تمام سرگرمیاں کن ووٹروں کے لیے ہیں؟

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 80 لاکھ فیس بک استعمال کرنے والے ہیں جبکہ پانچ لاکھ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے سوشل میڈیا وہی استعمال کرتے ہیں جن کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 13.5 فیصد پاکستانیوں کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے، جن کی تعداد تقریباً ڈھائی کروڑ بنتی ہے۔

خرم دستگیر کہتے ہیں کہ یہ وہ پڑھا لکھا یا مڈل کلاس طبقہ ہے جو اس سے پہلے سیاسی عمل میں شریک نہیں تھا اور اب سوشل میڈیا نے اسے اپنی سیاسی آرا کا اظہار کرنے کی آسانی فراہم کر دی ہے۔

انھوں نے کہا ’جب تحریکِ انصاف نے دکھایا کہ اس طبقے میں جذبہ بیدار ہو گیا ہے تو ظاہر ہے دیگر سیاسی جماعتوں کو ملک کی آبادی کا ایک نیا حصہ نظر آگیا جسے وہ پہلے نظر انداز کر دیا کرتے تھے۔‘

ماروی سرمد بھی اس تجزیے سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’یہ وہ طبقہ ہے جو روایتی طور پر ووٹ نہیں دیتا تھا۔ 2008 کے انتخابات میں بھی انھوں نے ووٹ نہیں ڈالا۔ دوسری جانب، اب بڑی تعداد میں 18 سے 25 عمر کے درمیان افراد کا ووٹ رجسٹر ہوا ہے۔ امید ہے کہ وہ اب ووٹ ڈالنے بھی نکلیں گے۔‘

2008 کے انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹروں میں سے55 فیصد افراد نے ووٹ نہیں ڈالا تھا۔

فیس بک اور ٹوئٹر پاکستانی ووٹروں کی اصل عکاسی تو نہیں کرتے، لیکن جب مقابلہ کانٹے کا ہو تو ایک ایک ووٹ بھی اہم ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں