وزیراعظم کی تصویر خراب کرنے پرگرفتاری

Image caption ان افراد کا موقف یہ ہے کہ اہم شخصیات کی تصویروں پر کالا رنگ پھینکنے کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ یہ ناکام حکمران ثابت ہوئے ہیں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے تین افراد کو سڑکوں پر آویزاں سرکردہ کشمیری رہنماؤں کی تصویروں پر کالا رنگ پھینکنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

تیس سے ساٹھ سال کی عمر کے ان تین افراد میں دو برطانوی شہری ہیں۔

گرفتار ہونے والوں میں وہ شخص بھی شامل ہے جس نے سنہ دو ہزار دس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری پر اس وقت جوتا پھینکا تھا جب وہ اپنے دورۂ برطانیہ کے دوران برمنگھم میں تقریر کررہے تھے۔

پولیس کے مطابق تصویروں پر سیاہ رنگ پھینکے جانے کا واقعہ جمعرات کی شام کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کوٹلی کے قصبے کھوئی رٹہ میں رونما ہوا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ ملزمان تنویر احمد، تیفور اکبر دت اور سردار محمد شمیم خان نے جن سیاستدانوں کی تصویروں پہ رنگ پھینکا ان میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید، دو سابق وزرائے اعظم سردار عبدالقیوم خان اور سردار عتیق احمد خان کے علاوہ موجودہ وزیر تعلیم مطلوب انقلابی اور سینئیر وزیر چوہدری محمد یاسین شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد کو ہتک کرنے، تصویروں کو بگاڑنے، پولیس کے ساتھ جھگڑا کرنے، کارِ سرکار میں مداخلت کرنے، پولیس کو دھمکی دینے اور لوگوں کے درمیان آپس میں جھگڑا کروانے کے دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں چالیس سال کے تنویر احمد اور کوئی ساٹھ سال کے سردار محمد شمیم خان کشمیری نژاد برطانوی شہری ہیں اور دونوں کا تعلق ضلع کوٹلی کے علاقے سہنسہ سے ہے۔

تنویر احمد چار سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہوئے تھے اور وہ سنہ 2005 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر واپس آگئے مگر ان کے والدین برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔

سردار شمیم بھی برسوں سے برطانیہ میں رہنے کے بعد کچھ ماہ پہلے اپنے گھر لوٹے ہیں۔گرفتار ہونے والے ان کے تیسرے ساتھی تیفور اکبر دت کوٹلی میں ایک گاؤں کرائیٹوٹ کے رہائشی ہیں۔

تنویر احمد بلاگر اور سماجی کارکن ہیں اور انھوں نے علاقے میں ایک مہم بھی شروع کررکھی تھی جس کا مقصد لوگوں میں اپنے حقوق کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔

انھوں نے دو ماہ قبل ہلاک ہونے والے ایک کشمیری نوجوان علی مرتضٰی کے بارے میں اپنے فیس بک صفحے پر بلاگ بھی لکھا تھا جس کے بارے میں ان کے خاندان والوں کا الزام ہے کہ وہ پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی حراست میں تشدد کی وجہ سے ہلاک ہوا تھا۔

اس واقعہ کے کوئی دس دن بعد پاکستان کی فوج نے کہا تھا کہ کشمیری نوجوان کی ہلاکت کے بارے میں مشترکہ تحقیقات کی جارہی ہے لیکن ابھی تک تحقیقات کے نتائج سامنے نہیں آئے۔

سردار شمیم نے اگست 2010 میں اس وقت پاکستان کے صدر آصف علی زرداری پر جوتا پھینکا تھا جب وہ اپنے برطانیہ کے دورے کے دوران بر منگھم میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ایک ریلی سے خطاب کررہے تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں تاریخ کا بدترین سیلاب آیا تھا جس کی وجہ سے لگ بھگ دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور کوئی دو کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے۔شمیم خان نے کہا تھا کہ انھیں صدر زرداری پر اس لیے غصہ تھا کہ ملک میں بدترین سیلاب کے دوران وہ برطانیہ کا دورہ کررہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کا سردار شمیم سنہ 1993 میں ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کرنے اور پولیس پر فائرنگ کرنے کے الزام میں مطلوب تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کئی ماہ سے اپنے گھر پر موجود رہے لیکن اس واقعہ سے پہلے پولیس نے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد کا موقف یہ ہے کہ اہم شخصیات کی تصویروں پر کالا رنگ پھینکنے کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ یہ ناکام حکمران ثابت ہوئے ہیں اور وہ خطے کی پسماندگی دور کرنے اور خطے کی تعمیر ترقی میں ناکام رہے ہیں۔

اسی بارے میں