بیرون ملک پاکستانیوں کا ووٹ: جلد بازی کیوں؟

ووٹر
Image caption کیا لندن یا امریکہ میں رہنے والے ووٹر کو حلقے کی نمائندگی کا فیصلہ کرنا چاہیے؟

کیا پاکستان کے انتخابات میں بیرون ملک رہنے والے شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہیے؟ اور اگر ہونا بھی چاہیے تو اس عمل میں اس قدر جلد بازی کیوں کہ اس سلسلے میں ایک آرڈیننس تک لانے کی بات کی جا رہی ہے؟

سپریم کورٹ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن اس عمل کو ممکن بنانے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ پاکستان کی انتخابی تاریخ یہ میں پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔

پہلے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا باہر رہنے والے پاکستانیوں کو ملک میں رہنے والوں کی تقدیر کے فیصلے میں شریک ہونے کا حق ہونا چاہیے یا نہیں؟

اس سوال کے جواب میں بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہاں یہ حق ان کو ہونا چاہیے اور اس کی تین اہم وجوہات ہیں۔ اول، یہ لوگ پاکستانی شہری ہیں لہٰذا ان کو باہر سے بیٹھ کر ووٹ کا حق ہونا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ باہر رہنے والے پاکستانی پاکستان کو پیسہ بھیجتے ہیں اور کیونکہ یہ زرمبادلہ ان کی طرف سے آتا ہے اس لیے ان کو اہمیت اور ووٹ کی سہولت دینی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ دوسرے ممالک کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے۔

کیا ان باتوں میں وزن ہے؟

پہلے تو کر لیں بات شہری ہونے کی۔ اگر آپ پاکستانی شہریت کے ساتھ دوسرے ملک کا پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں تو آپ کے پاس دوہری شہریت ہے۔ حال ہی میں عدالت کے احکامات پر دوہری شہریت رکھنے والوں کو برا بھلا اور خلاف آئین کہہ کر ان کو منتخب اسمبلیوں اور اعلیٰ عہدوں سے ہٹایا گیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ وہ شاید وفا دار پاکستانی نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس کسی اور ملک کی شہریت ہے۔ اگر وہ وفا دار شہری نہیں تھے جو اپنا وقت اور وسائل پاکستان کے سیاسی نظام کے اندر رہتے ہوئے استعمال کر رہے تھے تو پھر دوہری شہریت والا ووٹر کیوں ان سے قابل اور وفا دار ہے؟

اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی شاید ملک کے لیے وہ نہ چاہتے ہوں جو وہاں رہنے والے چاہتے ہیں۔ وہ روزمرہ کی بنیاد پر حالات سے اس طرح متاثر نہیں ہوتے جس طرح ملک میں رہنے والے شہری ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ان لوگوں کو سیاسی نظام سے اچھا فوجی ڈکٹیٹر کا نظام لگتا ہے۔

بیشتر یہ چاہتے ہیں کہ جب وہ چھٹیوں پر پاکستان آئیں تو ان کا وقت اچھا گزر جائے، وہ لاکھوں روپے خرچ کر کے بچوں کی شادیاں شان اور دکھاوے سے کر لیں۔ ان کو اس بات میں دلچسپی نہیں کہ سیاسی نظام چل رہا ہے یا نہیں، لوگوں کو احتجاج کا حق ہے یا نہیں اور وہ اس بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ ملک کے اداروں کو کس طرح مضبوط بنائی جائے۔

پھر آجائیے اس بات پر کہ یہ حق ان افراد کو اس لیے ہونا چاہیے کہ وہ زر مبادلہ بھیجتے ہیں اور ملک کو ان سے اتنا سارا پیسہ ملتا ہے۔ اگر صرف پیسہ ہی ووٹ کی بنیاد ہے تو پھر اس منطق کے تحت بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اگر پاکستان میں سرمایہ لگاتی ہیں تو ان کو بھی حکومت منتخب کرنے کا فیصلے کا حق ہونا چاہیے۔

پھر سوال آیا دوسرے ممالک کا۔ پاکستان کوئی فرانس یا امریکہ تو ہے نہیں۔ پاکستان ایک ترقی پذیر اور غریب ملک ہے۔ آرڈیننس کے ذریعے ایک دم سے ہی بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ دے دینے کے لیے مناسب انتظامات کرنا نہ صرف ایک مہنگا عمل ہوگا بلکہ اس میں دھاندلی کی گنجائش بھی زیادہ ہوگی۔

پوسٹل بیلٹ اور الیکٹرانک ووٹنگ میں دھاندلی بہت ممکن ہوتی ہے۔

بلکہ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اچانک اور جلدی میں بیرون ملک پاکستانیوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنا ’پری پول رِگنگ‘ یا قبل از انتخابات دھاندی کے مترادف ہے۔

جس کا پاکستان میں ووٹ ہے، اس کو پاکستان آکر ووٹ ڈالنا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں