کالعدم تنظیم کے بیان کی اشاعت پر مقدمہ

Image caption کالعدم تنظیموں کے خیالات اور بیانات کی تشہیر انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت ممنوع ہے:پولیس

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک کالعدم تنظیم کے بیان کی اشاعت پر چار اخبارات کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

جن چار اخبارات کے مدیران، ناشرین اور دیگر متعلقہ عملے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ مشرق اور روزنامہ انتخاب شامل ہیں۔

سٹی تھانہ کوئٹہ میں درج ہونے والا یہ مقدمہ جیش الاسلام نامی تنظیم کے ایک بیان کی اشاعت پر درج کیا گیا ہے۔

اس بیان میں 8 اپریل کو کوئٹہ میں پولیس کے ایک ڈی ایس پی امیر محمد دستی اور ان کے محافظ کے قتل کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔

کوئٹہ کے تھانہ سٹی کے ایس ایچ او کی جانب سے در ج کیے جانے والے مقدمے میں حکومت بلوچستان کے اس نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت مذکورہ تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ۔

ایف آئی آر کے مطابق جن تنظیموں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا جاتا ہے ان کے خیالات اور بیانات کی تشہیر بھی اس ایکٹ کے تحت ممنوع ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اخبارات اس تنظیم کا بیان شائع کر کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔

اس سے قبل بلوچستان ہائیکورٹ نے کالعدم تنظیموں کے بیانات کی نشر و اشاعت کا نوٹس لیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ حکومت اور پولیس قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب اداروں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں