تحریک طالبان سے تعلق، پولیس انسپکٹر گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس انسپکٹر نے طالبان کے ساتھ اپنے رابطوں کو تسلیم کیا ہے: پولیس اہلکار

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک پولیس انسپکٹر کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے رابطوں اور ایک پولیس اہلکار کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔

دریں اثناء کراچی میں ہدف بنا کر قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے جس میں جمعہ کو ایک پیش امام اور عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی عہدیدار سمیت مزید تین افراد کو ہلاک کیا گیا۔

پولیس کے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل میں تعینات انسپکٹر رانا عشرت پولیس کی تحویل میں ہیں جن پر طالبان کی جانب سے پولیس اہلکار کو قتل کرنے میں مدد دینے اور دیگر پولیس افسران کے قتل کا مبینہ منصوبہ بنانے کے الزامات ہے۔

’کالعدم تنظیموں سے روابط، 105 اہلکاروں کے خلاف کارروائی‘

اے وی سی سی کے سربراہ ایس ایس پی نیاز کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو بتایا گیا تھا کہ رانا عشرت کے خیبر ایجنسی اور فاٹا میں چند مشتبہ افراد سے رابطے ہیں جس کے بعد پولیس نے رانا عشرت پر نظر رکھنا شروع کر دی اور ان کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کی جانے لگی۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق نیاز کھوسہ نے کہا’جب ہمیں یہ یقین ہوگیا کہ اس (رانا عشرت) کے خیبر ایجنسی میں رابطے ہیں اور اس کا وہاں آنا جانا بھی ہے تو ہم نے انہیں کو گرفتار کر لیا‘۔

انہوں نے کہا کہ رواں برس جنوری میں پولیس کا ایک اے ایس آئی ہلاک ہوا تھا اور اس واقعہ کے بعد خفیہ ایجنسی کی جانب سے پولیس کو اطلاع دی گئی تھی کہ پولیس کا ایک افسر اپنے ہی ساتھیوں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہے جبکہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ رابطے میں بھی ہے اور دیگر افسران کو قتل کرانے کی سازش بھی کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اس بارے میں پولیس کو کیسے یقین ہوا کہ رانا عشرت کے رابطے طالبان کے ساتھ ہیں اور وہ سازش کر رہا ہے، ایس ایس پی نیاز کھوسہ نے بتایا کہ خیبر ایجنسی میں خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ پولیس رابطے میں تھی اور رانا عشرت کے وہاں آنے جانے کے شواہد موجود ہیں۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے انسپکٹر رانا عشرت طالبان سے رابطے میں ضرور تھے لیکن وہ ان کی مدد نظریاتی طور پر نہیں بلکہ مالی فوائد کے لیے کر رہے تھے۔

تفتیش کے دوران گرفتار انسپکٹر رانا عشرت نے اپنے اوپر عائد کیے جانے والے الزامات کی تردید کی لیکن انہوں نے طالبان کے ساتھ اپنے رابطوں کو تسلیم کیا ہے۔

ارشد پپو کیس

ایس ایس پی نیاز کھوسہ نے بتایا کہ ارشد عرف پپو اور ان کے بھائی یاسر عرفات کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں لیاری کے تھانوں کے تین تھانیداروں پر شک کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول ان میں سے ایک ایس ایچ او کو تحویل میں بھی لیا گیا ہے تاہم اب تک کی تفتیش کو میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا۔

لیاری گینگ وار کے اہم کردار ارشد پپو اور ان کے بھائی یاسر عرفات کو سترہ مارچ کو اغواء کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

ٹارگٹ کلنگز

کراچی میں ہدف بنا کر قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے جس میں جمعہ کو ایک پیش امام اور عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی عہدیدار سمیت مزید تین افراد کو ہلاک کیا گیا جبکہ اولڈ سٹی میں مسجد کے باہر سائیکل پر نصب ٹائم بم کو پولیس نے ناکارہ بنا دیا۔ گزشتہ تین دن کے دوران کراچی میں تیئس افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

ایک کلو وزنی یہ بم اولڈ سٹی ایریا میں مسجد گلزار حبیب کے باہر سائیکل میں نصب تھا جسے بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنادیا۔ ایس پی سٹی احمد جمال کے مطابق اہل محلہ نے مسجد کے بار کھری سائیکل میں مشکوک تھیلے کی اطلاع دی۔