سوری، بسنت نہیں منا سکتے: نجم سیٹھی

Image caption نجم سیٹھی نے نگراں وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ صوبے میں بسنت کا تہوار منایا جانا چاہیے

پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں کے باعث بسنت نہیں منائی جا سکتی۔

نجم سیٹھی نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا، ’سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے ہم بسنت نہیں منا سکتے۔ سوری۔ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔‘

جب ٹوئٹر کے ایک صارف نے اصرار کیا تو نجم سیٹھی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا، ’اگر کوئی چھت سے گر کر یا ڈور سے کٹ کر ہلاک ہو گیا تو؟‘

ٹوئٹر پر ہونے والے ایک سروے میں 60 فیصد سے زیادہ لوگوں نے بسنت منانے کے حق میں ووٹ دیا۔

گذشتہ ہفتے لاہور میں پتنگ سازی کی تنظیم کے عہدیداروں نے بسنت منانے کے لیے ضلعی حکومت کو باقاعدہ درخواست دی تھی۔

پتنگ سازی کی تنظیم نے لاہور میں 13 اور 14 اپریل کو بسنت منانے کی اجازت مانگی تھی۔

نجم سیٹھی نے نگراں وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ صوبے میں بسنت کا تہوار منایا جانا چاہیے۔

Image caption پنجاب میں آخری مرتبہ بسنت کا تہوار 2009 میں اس وقت منایا گیا تھا جب صوبے میں گورنر راج نافذ تھا

لاہور کی ضلعی حکومت نے اس سال پتنگ بازی کی اجازت دینے کے سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی تاہم یہ کمیٹی کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہی ۔

پنجاب میں آخری مرتبہ بسنت کا تہوار 2009 میں اس وقت منایا گیا تھا جب صوبے میں گورنر راج نافذ تھا۔

پتنگ بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل یہ تہوار موسم بہار کی آمد کے موقع پر ہر سال منایا جاتا تھا تاہم بسنت کے موقع پر دھاتی تار اور کیمیکل ڈور کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث حکومت نے چند برس قبل بسنت کے تہوار اور اس موقع پر پتنگیں اڑانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

نگراں وزیر اعلیٰ کی جانب سے بسنت منانے کا اشارہ دینے کے بعد پتنگ بازوں میں پھر یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اس سال بسنت منائی جائے۔

پتنگ سازی کی مقامی تنظیم کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے ضلعی سربراہ سلیم شیخ نے کہا کہ رٹ قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو چاہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس کے بعد بسنت کا تہوار منایا جا سکے۔

سلیم شیخ نے کہا کہ اگر لاہور میں بسنت نہیں کرا سکتی تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوگا کہ نگراں حکومت پورے صوبے میں عام انتخابات کرا سکے۔

اسی بارے میں