سکیورٹی خدشات اور انتخابی معرکہ

Image caption ملک کی کئی بڑی جماعتوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران بڑے بڑے جلسے بھی کیے ہیں لیکن بیشتر جماعتوں کی مہم بڑی حد تک یا تو پاکستان کے ٹی وی چینلوں تک محدود ہے یا گلی محلے کی سطح پر کارنر میٹنگز تک

پاکستان میں انتخابات کے انعقاد میں تقریباً ایک ماہ ہی باقی ہے لیکن شہروں اور دیہات میں اس بار وہ گہماگہمی دیکھنے کو نہیں مل رہی جو عام طور پر انتخابی موسم کا خاصہ ہوتی ہے۔

ملک کی کئی بڑی جماعتوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران بڑے بڑے جلسے بھی کیے ہیں لیکن بیشتر جماعتوں کی مہم بڑی حد تک یا تو پاکستان کے ٹی وی چینلوں تک محدود ہے یا گلی محلے کی سطح پر کارنر میٹنگز تک۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ ایک طرف دہشت گردی، نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کا سلسلہ تھمنے کو نہیں آرہا تو دوسری طرف بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور امیدواروں پر حملے بھی جاری ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے دھمکیاں دے رکھی ہیں۔

عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما بشیر احمد بلور کو پشاور میں ایک کارنر میٹنگ کے بعد خودکش بم حملہ کر کے قتل کیا گیا جبکہ اسی جماعت کے ایک امیدوار پر پچھلے دنوں حملہ کیا گیا اور ایک سابق رہنما بھی حملے کا نشانہ بنے جس میں وہ بال بال بچے۔

اسی ہفتے ملک کے جنوبی شہر حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے ایک امیدوار کو گولیاں مارکر قتل کیا گیا جبکہ کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے متبادل امیدوار کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے امیدوار پر حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریکِ طالبان نے قبول کی ہے اور یہ کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے حملوں کے جاری رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی عدیل کہتے ہیں کہ اس صورتحال میں ان کی جماعت کے لیے انتخابی مہم چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’ان تمام حالات کے باوجود ہم الیکشن میں حصہ لیں گے اور اگر ہم نے الیکشن میں حصہ نہ لیا تو یہ دہشت گردوں کی فتح ہوگی۔ ان کا تو مقصد یہی ہے کہ سیاسی پارٹیاں انتخابات میں حصہ نہ لیں کیونکہ وہ جمہوری عمل پر یقین ہی نہیں رکھتے ہیں اور طاقت کے ذریعے اپنی مرضی کی شریعت ہم پر لاگو کرنا چاہتے ہیں۔‘

حاجی عدیل نے بتایا کہ ان کی جماعت نے انتخابی مہم کے دوران اپنے امیدواروں اور ووٹروں کے تحفظ کے لیے بڑے جلسے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’خدانخواستہ اگر ہمارے جلسوں میں خودکش بمبار آجائے تو سینکڑوں لوگوں کی جان جا سکتی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ایک ووٹر کی جان کا بھی ضیاع ہو۔ ہم ووٹروں سے ٹیلی فون سے رابطہ رکھیں گے، انٹرنیٹ کو استعمال میں لائیں گے اور گھر گھر بھی جہاں تک ممکن ہو سکا ہمارے امیدوار جائیں گے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں اب تک کوئی بڑا جلسہ نہیں کیا ہے بلکہ اس مرتبہ پہلی بار یہ بھی ہوا کہ پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر گڑھی خدا بخش میں روایتی جلسہ عام بھی منسوخ کر دیا گیا اور اسکی ایک وجہ امن و امان کی مخصوص صورتحال بتائی گئی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن انتخابی مہم میں درپیش مشکلات کے بارے میں کہتے ہیں:

’پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ لیکن اس وقت جس طرح الیکشن کمیشن نے پابندی لگائی ہوئی ہے کہ امیدوار اپنے ساتھ لائسنس والا ہتھیار بھی نہیں رکھ سکتا اور مختلف امیدواروں پر حملے بھی ہو رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ جن جماعتوں کو خطرات درپیش ہیں، الیکشن کمیشن کو ان جماعتوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور ان کے نمائندوں کو اپنے دفاع کے لیے لائسنس یافتہ ہتھیار لے کر چلنے کی اجازت دینی چاہیے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ضیاء الدین کہتے ہیں کہ تمام تر خطرات کے باوجود سیاسی جماعتیں کارنر میٹنگز اور ٹیلی وژن چینلز کے ذریعے اپنا پیغام ووٹروں تک پہنچانے میں کامیاب ہو رہی ہیں اور اگر آنے والے دنوں میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ نہ ہوا تو سیاسی جماعتیں انتخابی معرکے کو سر کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گی۔

’اب تک تو سیاسی جماعتیں کاغذاتِ نامزدگی اور اپنے امیدوار چننے کے مرحلوں میں ہی پھنسی ہوئی ہیں، تو بڑی لیڈرشپ جو ہے وہ انتخابات کی ضمنیات میں مصروف ہے اور انیس اپریل کے بعد انہیں بیس دن ملیں گے، اب یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان بیس دنوں میں یہ کرتے کیا ہیں۔‘

ضیاء الدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری نگراں حکومت کی ہے اور امیدواروں کو اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

اسی بارے میں