لاہور ہائی کورٹ میں ایک اور خاتون جج

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اعلیٰ ترین عدلیہ یعنی لاہور ہائی کورٹ میں ایک اور خاتون جج نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

جسٹس عالیہ نیلم سے پہلے جسٹس عائشہ اے ملک نے گزشتہ برس ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئی تھیں۔

نئی خاتون جج جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائی کورٹ کی چوتھی خاتون وکیل ہیں جو ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیں گی۔

دس برسوں کے کے بعد گزشتہ برس جسٹس عائشہ اے ملک کو لاہور ہائی کورٹ مقرر کیا گیا اور ایک سال کے وقفے کے بعد عالیہ نیلم نے لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔

ان سے پہلے ان سے پہلے جسٹس فخرالنساء کھوکھر اور جسٹس ناصرہ جاوید اقبال لاہور ہائی کورٹ کی جج رہ چکی ہیں جبکہ جسٹس عائشہ ملک ابھی لاہور ہائی کورٹ کی جج ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عالیہ نیلم دونوں ہی لاہور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج ہیں اور جسٹس عائشہ اے ملک کو ہائی کورٹ کا مستقل جج مقرر کرنے کا فیصلہ اسی سال جبکہ عالیہ نیلم کو ایڈیشنل جج سے مستقل جج بنانے کا فیصلہ آئندہ سال ہوگا۔

جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائی کورٹ کے ان چھ ایڈشینل ججوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے جمعہ کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ان سے حلف لیا۔

لاہور ہائی کورٹ کی خاتون ججز جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عالیہ نیلم کے ہائی کورٹ کے مستقل جج بننے کی صورت میں اس بات کا امکان ہیں کہ یہ خواتین ججز لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس بھی بن سکتی ہیں۔

مستقل ہونے کی صورت میں جسٹس عائشہ اے ملک دو جون دو ہزار اٹھائیس جبکہ جسٹس عالیہ نیلم گیارہ جون دو ہزار اٹھائیس کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوں گی۔

جسٹس عالیہ نیلم اس لاہور ہائی کورٹ کی سینیارٹی لسٹ کے مطابق سب سے جونئیر جج ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں پہلی بار1994ء میں اس وقت تین خواتین وکلا کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا جب پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو نے دوسری بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔

ان خواتین وکلا میں فخرالنساء کھوکھر، ناصرہ جاوید اقبال اور طلعت یعقوب شامل تھیں جنہوں نے اپنے ہائی کورٹ کے جج کا حلف اٹھایا۔

تاہم سپریم کورٹ کے معروف’ججزز کیس‘ کے فیصلے کے مطابق خواتین ججوں میں صرف جسٹس فخرالنساء کھوکھر ہی اپنے عہدے پر قائم رہنے کی اہل قرار پائیں۔

سات برس کے وقفے کے بعد مئی دو ہزار ایک میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے شاعر مشرق علامہ اقبال کی بہو ناصرہ اقبال کو دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا اور انہوں نے نومبر دو ہزار دو تک ایڈیشنل جج کے طور فرائض انجام دیے۔

جسٹس ناصرہ جاوید اقبال واحد خاتون وکیل ہیں جو دو بارہ لاہور ہائی کورٹ کی جج کے عہدے پر فائز رہیں۔

جسٹس فخرالنساء کھوکھر جون دو ہزار چار میں لاہور ہائی کورٹ کی سینیئر ترین جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں اور اس وقت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس افتخار حسین چوہدری کے ساتھ اختلافات کے باعث ان کے اعزاز میں روایتی الوداعی تقریب نہیں ہوئی۔

جسٹس افتخار حسین چوہدری سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قریب ہونے کی وجہ سے اپنی ریٹائرمنٹ تک چیف جسٹس رہے اور اسی وجہ سے فخرالنساء چیف جسٹس ہائی کورٹ نہ بن سکیں۔

فخرالنساء کھوکھر اور ناصرہ جاوید دونوں کو یہ اعزاز بھی حاصل ہیں وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی تقرری سے ججوں کی کل تعداد اکتالیس وگئی ہے جبکہ ابھی ججوں کی نو اسامیاں خالی پڑی ہیں

اسی بارے میں