پشاور:مسافر وین میں دھماکے سے نو افراد ہلاک

فائل فوٹو، پشاور میں دھماکہ،
Image caption پشاور میں شدت پسندی کے واقعات میں عام شہریوں کے علاوہ سکیورٹی اہلکاروں، سیاست دانوں کو نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے متنی میں ایک مسافر ویگن میں بم دھماکے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں تین خواتین اور سات مرد شامل ہیں جنہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق کوہاٹ سے پشاور آنے والی ایک مسافر وین پشاور کے مضافاتی علاقے متنی کے شیر علی بازار کے قریب رکی تو وہاں دھماکہ ہو گیا۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار عبدالحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد مسافر ویگن کے چھت پر رکھا ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد میں بال بیرنگ استعمال کرنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

دھماکے کے نتیجے میں قریب میں واقع متعدد دکانوں کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے۔

ایس پی شفیع اللہ خان کے مطابق دھماکے سے مسافر وین کے عقبی حصے کو زیادہ نقصان پہنچا ہے اور ڈرائیور محفوظ رہا۔

انہوں نے بتایا کہ مسافر گاڑی میں امن لشکر کے اہلکار یا کوئی اہم شخصیت سوار نہیں تھی۔

صدرِ مملکت، نگراں وزیراعظم اور نگراں وزیر داخلہ نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں آئندہ ماہ کی گیارہ تاریخ کو عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں اور ان انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال کو نگراں حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

پشاور کے مضافاتی علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر خراب ہو گئی ہے۔متنی میں اس سے پہلے بھی شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کی صبح بڈھ بیر پولیس سٹیشن کے مال خانے میں آگ لگنے سے وہاں بڑی مقدار میں موجود دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔

حکام کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی اور اس کے نتیجے میں مال خانے میں موجود دھماکہ خیز مواد پھٹنے کے نتیجے میں پندرہ گاڑیوں اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں