اڈیالا جیل کیس: فوج سے تفصیلات طلب

سپریم کورٹ پاکستان
Image caption سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی کسی بھی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں رکھا جاسکتا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوج کی قانونی برانچ سے اُن گیارہ افراد سے متعلق ہونے والی کارروائی کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جنہیں تین سال قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے فوجی قافلوں پر حملوں کے الزام میں زبردستی اُٹھایا گیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک لمحے کے لیے بھی کسی بھی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں رکھا جاسکتا اور اس معاملے میں اگر کوئی بھی قصوروار پایا گیا تو اُس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت کو وہ تمام ریکارڈز فراہم کیے جائیں جن کی بنیاد پر ان افراد کو حراست میں رکھا گیا اور ان کا ٹرائل کیا گیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے باہر سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

Image caption قبائلی علاقوں کی پولیٹیکل انتظامیہ نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ان گیارہ افراد میں سات افراد کو اغوا کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا

فوج کے جج ایڈووکیٹ جنرل برگیڈئیر نوبہار نے عدالت میں ان افراد کو حراست میں رکھنے سےمتعلق ایک وضاحتی بیان عدالت میں پیش کیا۔ اس بیان کو عدالت نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اُنہوں نے بیان دیا تھا کہ اگر ان افراد کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کرنے سے متعلق کوئی شواہد نہ ملے تو اُنہیں رہا کردیا جائے گا جبکہ اب ان افراد پر فرنٹئیر کرائم ریگولیشن کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔

عدالت نے وفاق سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں بھی جواب دیں کہ جب ان افراد کے خلاف فوجی قافلوں سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے تو پھر اُنہیں محض شک کی بنا پر ایف سی آر قانون کے تحت کارروائی ہو رہی ہے۔

قبائلی علاقوں کی پولیٹیکل انتظامیہ نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ان گیارہ افراد میں سات افراد کو اغوا کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے فوج اور خفیہ ایجنسوں کے وکیل راجہ ارشاد نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ ان افراد کے خلاف فوجی قافلوں اور تنصیبات پر حملوں کے شواہد نہیں ملے۔

یاد رہے کہ گیارہ افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدموں میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا تھا اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے ان افراد کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار زبردستی اغوا کرکے لے گئے تھے جن میں سے چار افراد حراست کے دوران ہی ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں