’نواز شریف انتخاب میں حصہ لینے کے اہل‘

Image caption نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور ترسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے: درخواست گزار

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر کی جانے والی اپیلوں کے مسترد کرتے ہوئے انہیں عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دے دیا ہے۔

شریف بردارن کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار سمیت دیگر افراد نے اپیلیں دائر کی تھیں۔

ان اپیلوں میں نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں عام انتخابات کے لیے نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

نواز شریف قومی اسمبلی جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے لاہور سے امیدوار ہیں۔

نواز شریف کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے امیدوار سہیل ملک سمیت دیگر افراد نے دائر کی ہیں۔

نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے امیدوار ہیں اور ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار سہیل ملک نے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔

سہیل ملک کے وکیل میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ نے الیکشن ٹربیونل کو بتایا کہ اصغر خان کیس میں نواز شریف ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جو نادہندہ ہیں اور انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے لی گئی رقم واپس نہیں کی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سہیل ملک کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ نواز شریف سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک معاہدے کر کے سعودی عرب گئے تھے تاہم وہ عوام کے سامنے اس معاہدے کے بارے میں غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔

میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ کے بقول نواز شریف نے سیاست میں دوہرا معیار رکھتے ہیں کیونکہ ایک طرف سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی بات کرتے رہے ہیں اب جب جنرل مشرف پاکستان میں تو انہوں نے کارروائی تو دور کی ان کے خلاف کوئی بیان تک نہیں دیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سہیل نے استدعا کی کہ ان کے مدمقابل امیدوار نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور ترسٹھ پر پورا نہ اترنے پر نااہل قرار دے کر ان کے کاغذات مسترد کیے جائیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ناصر سعید شیخ اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے سماعت کی۔

اسی بارے میں