سرحدی چوکی: کابل کا احتجاج، ’معاملہ حل ہو گیا ہے‘

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل کی جانب سے پاک افغان سرحد پر چیک پوسٹ پر تنقید کا مسئلہ افغان فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے ساتھ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کو افغان نیشنل آرمی کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل افضل امان نے پاکستانی ہم منصب میجر جنرل اشفاق ندیم احمد سے ملاقات کی۔

بیان کے مطابق دونوں فوجی افسران نے سرحدی کوآرڈینیشن کے حوالے سے بات چیت کی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بات چیت میں پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکی کی تعمیر بھی زیر بحث آئی اور اس ایشو کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا۔

اس سے قبل افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان اور افغان نیشنل آرمی کے اعلیٰ افسر جنرل ظاہر اعظمی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے سرحد پر گیٹ لگانے کی کوششوں پر تنقید کی۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیورنڈ لائن پر گیٹ کی تعمیر بین الاقوامی ضوابط کی خلاف ورزی ہے اور دو طرفہ تعلقات کو بھی خراب کرے گا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل اعظمی نے کا کہا کہ پاکستان کو سرحد پر گیٹ اور چیک پوسٹیں بنانے سے روکنے کے لیے کابل کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں۔

’افغان نیشنل آرمی نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو سرحد پر چیک پوسٹیوں کی تعمیر اور گیٹ لگانے سے روکا جائے گا۔‘

واضح رہے کہ اتوار کو افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے وزرائے دفاع، داخلہ اور خارجہ کو ہدایت دی تھی کہ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں تعمیر کی گئی چیک پوسٹوں اور گیٹ کو ہٹایا جائے۔

حامد کرزئی نے اپنے وزراء کو یہ بھی ہدایت دی کہ امریکہ کی قیادت میں اتحادی فوج سے وضاحت طلب کی جائے کہ کیوں انہوں نے ان چوکیوں اور گیٹس کی تعمیر میں پاکستان کی مدد کی۔

دوسری جانب آئساف کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آئساف سرحد کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور افغانستان اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

اسی بارے میں