جبری گمشدگیاں، سیاسی جماعتوں کا امتحان

پہاڑ کی گود میں واقع دو کمروں پر مشتمل سکول میں سو سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں، ان بچوں نے سکول کی یونیفارم نہیں بلکہ گھر کے عام کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔

نیو کاہان کے علاقے میں واحد سہولت ہے جو حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی تاہم استاد پھر بھی تعینات نہیں، کچھ نوجوان مقامی لوگوں کے چندے سے ان بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

کوئٹہ کے مقامی لوگوں کے لیے نیو کاہان ممنوع علاقہ ہے، یہاں مری قبیلے کے لوگ آباد ہیں جو نواب خیر بخش مری کے ساتھ 1992 میں افغانستان سے واپس آئے تھے۔

اس علاقے میں پکی سڑک، صحت اور پینے کے صاف پانی سمیت کوئی بھی بنیادی سہولت دستیاب نہیں، یہاں بچے ان محرومیوں کے ساتھ بڑے ہو رہے ہیں۔

گزشتہ 21 برسوں میں اس غیر آْباد علاقے میں صرف ایک چیز آْباد ہوئی ہے اور وہ ہے قبرستان۔ یہ چالیس قبریں ان افراد کی ہیں جو لاپتہ ہوئے تھے یا چھاپے کے دوران فائرنگ میں ہلاک ہوئے۔

ریاستی جبر کے خلاف اظہار رائے کا مطلب مزید ایک نوجوان کی گمشدگی ہے۔

ایک نوجوان نے بتایا کہ لاپتہ اور ہلاک ہونے والوں میں سے کسی کو گھر پر چھاپہ مارکر غائب کیا گیا، کسی کو مارکیٹ سے دوران مزدوری اٹھایا گیا یا راستے میں سے اٹھاکر لے گئے۔ ’ سال، ڈیڑھ سال یا دو سال تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں مارکر لاشیں پھینک دی گئیں‘۔

بلوچستان سے گزشتہ دس سالوں میں سینکڑوں افراد لاپتہ ہوئے، گمشدگیوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن میں اس کی تعداد 650 کے قریب اور وائس فار مسنگ پرسنز اس کی تعداد 23000 بتاتی ہے۔

شاری ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی ہیں، جو 6 جون 2009 سے لاپتہ ہیں، ان کی بازیابی کے لیے شاری سپریم کورٹ اور کمیشن کے روبرو حاضر ہو چکی ہیں لیکن تاحال ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے ان کے دل کو تسلی ہوتی۔

بی ایس کی طالبہ شاری بلوچ کو تو انتخابات اور بلوچ قوم پرست جماعتوں سے بھی کوئی امید نہیں ہے۔’ وہ بھی اسی ریاست کا حصہ ہیں جو ہم سے دشمنی کر رہی ہے، ہم ان بلوچ رہنماؤں اور سیاست دانوں کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں جس طرح پاکستان کی ریاست کو، یہ سیاست دان بھی اس کے حصے دار ہیں، پھر چاہے آصف علی زرداری ہو یا اختر مینگل‘۔

جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات کے باعث پارلیمانی سیاست میں یقین رکھنے والی قوم پرست جماعتیں شدید دباؤ میں ہیں۔

اپنی انتخابی مہم میں وہ جبری گمشدگیوں اور لاشوں کی برآمدگی کے خلاف بات کر رہے ہیں، کیا حکومت میں آ کر یہ جماعتیں اس سلسلے کو روک پائیں گی؟

میں نے یہ سوال جب نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو سے کیا تو کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ اگر اسمبلی میں انہیں مناسب نمائندگی ملی یا حکومت کا حصہ بنے تو وہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کریں گے۔

’ ہم کسی کو لاپتہ ہونے ہی نہیں دیں گے، گزشتہ حکومت میں گولیوں سے چھنی جو لاشیں آئیں یا لوگ لاپتہ ہوئے اس کی سب سے بڑی ذمہ داری بلوچستان حکومت کی ہے کیونکہ اس نے آنکھیں بند کی ہوئیں تھیں، انہوں نے اسمبلی میں اس پر آواز ہی نہیں اٹھائی‘۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل بے بسی کا اظہار کرتے ہیں، بقول ان کے اسٹیبلشمنٹ نے اپنے پنجے پورے بلوچستان پر گاڑے ہوئے ہیں، وہ کسی کو برداشت نہیں کرتی، ایسے حالات میں مشکل لگتا ہے کہ کوئی بھی حکومت جب تک اداروں کی مداخلت بند نہیں کی جاتی، کچھ کر پائے گی۔

اختر مینگل کے مطابق آپریشن مرکزی حکومت کا فیصلہ تھا پہلے بھی مرکزی حکومت نے کیا اور کلنک صوبائی حکومت کے ماتھ پر لگایا گیا۔

’میں کم سے کم یہ تو کرسکوں گا کہ جو کالک کا توا وہ لیکر گھوم رہے ہیں اور کچھ نہیں تو کم سے کم خود کو اس سے ہٹالوں‘۔

وائس فار منسگ پرسنز کے وائس چیئرمین عبدالقدیر ریکی نے اپنی احتجاجی کیمپ کراچی سے کوئٹہ منتقل کردیا ہے وہ 2009 سے سراپا احتجاج ہیں، وقت گذرنے کے ساتھ ان کی کیمپ میں لاپتہ افراد کی تصویروں میں اضافہ تو ہوا ہے کمی نہیں۔

اسی بارے میں