ثناءاللہ زہری کے قافلے پر بم حملہ، چار ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں مسلم لیگ نواز کے صوبائی صدر ثناء اللہ زہری کے قافلے پر بم حملے میں چار افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ حملہ خضدار کی تحصیل زہری کے علاقے گیٹ پل میں اس وقت ہوا جب ثناء اللہ زہری زہری علاقے میں انتخابی مہم کے سلسلے میں جا رہے تھے۔

بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ریموٹ کنٹرول بم کا حملہ تھا اور اس حملے میں ثناءاللہ زہری خود تو محفوظ رہے تاہم ہلاک ہونے والوں میں ان کے بیٹے میر سکندر، بھائی مہراللہ اور بھتیجا میر زیب شامل ہیں۔

مرنے والوں میں ثنا اللہ زہری کا ایک محافظ بھی شامل ہے جبکہ حملے میں زخمی ہونے والے 25 افراد کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر درانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ثناءاللہ زہری کے قافلے میں بیس گاڑیاں تھیں اور یہ انتخابی مہم کے لیے ان کی رہائش گاہ سے نکلتے ہی ایک گھریلو ساختہ بم کا نشانہ بنا۔‘

اکبر درانی کے مطابق بم ثناءاللہ زہری کی گاڑی گزرنے کے بعد پھٹا اس لیے وہ حملے میں محفوظ رہے تاہم ان کے قافلے میں شامل کم از کم چار گاڑیاں دھماکے سے متاثر ہوئیں۔

یاد رہے کہ تقریباً دو سال پہلے بھی ثناءاللہ زہری پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔

بلوچستان میں انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد سے الیکشن کمیشن کے دفاتر پر کم از کم تین حملے ہو چکے ہیں تاہم صوبے میں کسی انتخابی مہم کو نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے دفاتر پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں