مشرف چترال سے بھی الیکشن کے لیے نااہل

الیکشن ٹربیونل نے پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو چترال سے بھی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔

پرویز مشرف نے 11 مئی 2013 کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے ابتدائی طور پر کراچی کے حلقہ این اے 250، اسلام آباد کے حلقہ این اے 48،قصور کے حلقہ این اے 139 اور چترال کے حلقہ این اے 32 سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے۔

ابتدائی طور پر چترال کے علاوہ دیگر تمام حلقوں سے ان کے کاغذات پہلے ہی مسترد کر دیے گئے تھے جن کے خلاف پرویز مشرف نے الیکشن ٹربیونل میں اپیلیں بھی کیں مگر وہ بھی مسترد ہو گئیں۔

ادھر این اے 32 سے ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے ان کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کی گئی تھی جس پر منگل کو فیصلہ سنایا گیا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ راجہ پرویز اشرف الیکشن ٹریبونل کے خلاف اعلیْ عدلیہ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو براہ رست سپریم کورٹ میں نہیں بلکہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

ان کے بقول الیکشن ٹربیونل دو ججوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست کم از کم تین رکنی یا اس بڑا فل بنچ سماعت کرتا ہے۔

ڈاکٹر خالد رانجھا کے مطابق جب ہائی کورٹ کا فل بنچ کسی الیکشن ٹربیونل کے خلاف فیصلہ دیتا ہے تو پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں