خضدار دھماکے کے خلاف ہڑتال اور سوگ

Image caption بلوچستان میں انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد سے الیکشن کمیشن کے دفاتر پر کم از کم تین حملے ہو چکے ہیں

بلوچستان کے ضلع خضدار میں منگل کو ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے صوبائی صدر نواب ثناء اللہ زہری کے بھائی اور بیٹے سمیت چاروں افراد کو بدھ کی صبح ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

منگل کے روزانتخابی مہم کے سلسلے میں انجیرہ سے زہری جاتے ہوئے نواب ثناء اللہ زہری کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایاگیا تھا۔

اس حملے میں نواب ثناء اللہ زہری کے بیٹے، بھائی اور بھتیجے سمیت چار افراد ہلاک اوردیگر تیس زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین میں سرکاری حکام اور قبائلی عمائدین کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

دریں اثناء مسلم لیگ(ن) کی کال پرآج مستونگ، منگیچر، قلات، خضدار اور بعض دیگر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

اس واقعے کے خلاف مسلم لیگ(ن) بلوچستان نے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔

منگل کو یہ حملہ خضدار کی تحصیل زہری کے علاقے گیٹ پل میں اس وقت ہوا جب ثناء اللہ زہری علاقے میں انتخابی مہم کے سلسلے میں جا رہے تھے۔

اس حملے میں ثناءاللہ زہری خود تو محفوظ رہے تاہم ان کے بیٹے میر سکندر، بھائی مہراللہ اور بھتیجا میر زیب اور ان کا ایک محافظ ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ تقریباً دو سال پہلے بھی ثناءاللہ زہری پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔

بلوچستان میں انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد سے الیکشن کمیشن کے دفاتر پر کم از کم تین حملے ہو چکے ہیں تاہم صوبے میں کسی انتخابی مہم کو نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے دفاتر پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں