’پولیس نے سلیوٹ کیا اور مشرف چلے گئے‘

پاکستان کے سابق فوجی صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جب اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تو وہ کافی مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔

وہ اپنے وکیل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں پہنچے جو اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ شاید عدالت اُن کی ضمانت میں توسیع کردے۔

دلائل کے دوران مشرف بار بار ماتھے سے پسینہ صاف کرتے رہے اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا دکھائی دیے۔

لوگوں سے کھچا کھچ بھرے کمرۂ عدالت میں اُن کی سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کے علاوہ وہ وکلاء بھی کافی تعداد میں موجود تھے جوعدلیہ بحالی کی تحریک میں بڑے سرگرم رہے تھے۔

بعد میں جونہی عدالت نے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے اور اُن کی گرفتاری کا حکم دیا تو وہ کمرہ عدالت سے نہایت تیزی سے نکلے۔

کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہی پرویز مشرف کے چہرے پر پریشانی کےآثار نمایاں تھے اور وہ اپنے وکیل یا اپنی پارٹی کے جنرل سیکرٹری سے بات کیے بغیر اپنی بُلیٹ پروف گاڑی میں بیٹھ گئے۔

سابق فوجی صدر کی سکیورٹی پر تعینات نجی سکیورٹی اور رینجرز کے اہلکار بھی اُتنی ہی تیزی سے کمرہ عدالت سے نکلے اور وہ پرویز مشرف کو بحفاظت وہاں سے نکال کر اُن کے فارم ہاؤس میں لےگئے۔

پرویز مشرف جب کمرہ عدالت سے نکلے تو وہاں پر موجود وکلاء نعرے بازی کر رہے تھے ’دیکھو دیکھو کون بھاگا گیدڑ بھاگا گیدڑ بھاگا‘۔ کچھ وکلاء گاڑی کے پیچھے بھی بھاگے لیکن وہ گاڑی کو نہیں روک سکے۔

عدالت میں موجود اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے اس وقت ایسے ردعمل کا اظہار کیا جیسے اُنہوں نے عدالتی حکم سُنا ہی نہ ہو اور پرویز مشرف جب کمرہ عدالت سے اپنی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے نکل رہے تھے تو کمرہ عدالت کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے اُنہیں سلیوٹ کیا۔

بات صرف یہیں پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے پولیس کنٹرول پر کوئی پیغام بھی نہیں دیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کی ضمانت مسترد ہوگئی ہے لہٰذا اُن کی گاڑی کو ناکہ لگا کر روک لیا جائے۔

اس کے برعکس پرویز مشرف جس گاڑی میں بیٹھ کر اپنے فارم ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے اس گاڑی کو بھی رینجرز اور اسلام آباد پولیس کے اہلکار سکواڈ کر رہے تھے۔

پولیس حکام کی طرف سے سابق فوجی صدر کے لیے سڑکوں پر لگایا جانے والا روٹ اُس وقت تک ختم نہیں کیا گيا جب تک وہ خیر وعافیت سے اپنے فارم ہاؤس نہیں پہنچ گئے۔

اسی بارے میں