پرویز اشرف کی نااہلی، ٹربیونل کا فیصلہ معطل

Image caption وکلا نے استدعا کی کہ راجہ پرویز اشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا نام آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے گوجر خان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 51 سے امیدوار تھے تاہم پہلے ریٹرننگ آفیسر اور بعد میں الیکشن ٹربیونل نے ان کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گیارہ مئی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

سابق وزیراعظم نے فاروق ایچ نائیک اور سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کردہ درخواست میں ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

جمعرات کو اس درخواست کی سماعت کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو معطل کر دیا اور الیکشن کمیشن کو بائیس اپریل کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیے۔

فل بینچ نے الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ راجہ پرویز اشرف کا نام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے راجہ پرویز اشرف کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل رینٹل پاور پراجیکٹ میں سزا یافتہ نہیں ہیں بلکہ اس معاملے کی ابھی کوئی انکوائری بھی شروع نہیں کی گئی۔

وکلا نے استدعا کی کہ راجہ پرویز اشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کا فل بینچ جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں