’کٹھن اور طویل قانونی جنگ لڑنا پڑے گی‘

Image caption مشرف کے خلاف جتنے بھی مقامات ہیں ان کی باری باری تفتیش ہوگی:خواجہ حارث

پاکستان کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کو اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے ایک کٹھن اور طویل قانونی جنگ لڑنا پڑے گی اور ان کے ایک عدالت سے دوسری عدالت تک چکر لگیں گے۔

جنرل ریٹائرڈ مشرف کے خلاف اس وقت چار مقدمات زیرِ سماعت ہیں جن میں ایک میں ضمانت مسترد ہونے پر پولیس نے ان کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ چلانے کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے۔

فوج کے سابق سربراہ کو جن مقدمات کا سامنا ہے ان میں سابق وزیر اعظم بینظر بھٹو قتل کیس، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت، لال مسجد اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند رکھنے کے مقدمات شامل ہیں۔

ماہرین قانون کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف جو چار مقدمات زیر سماعت ہیں وہ تمام کے تمام فوجداری نوعیت کے ہیں اور ان مقدمات کی کارروائی کے سلسلے میں انہیں کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ ان مقدمات کی کارروائی مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب باتیں دیکھنا ہوگی کہ عدلیہ مقدمے کو کس انداز میں آگے بڑھاتی ہے، کتنے گواہ پیش ہوتے ہیں، گواہوں پر جرح کس انداز میں اور کتنی طویل ہوگی اور سب سے اہم پرویز مشرف کے وکلا کیا دفاع پیش کرتے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف چاروں مقدمات مختلف نوعیت کے ہیں اور اس لیے ہر مقدمے کے قانونی تقاضے بھی الگ الگ ہیں۔

سابق ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث کہتے ہیں کہ سابق فوجی صدر مشرف کے خلاف جتنے بھی مقامات ہیں ان کی باری باری تفتیش ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ’ہر مقدمے میں پرویز مشرف کی گرفتاری ہوگی اور پھر ہر مقدمے میں تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں ضمانت کے لیے متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا‘۔

سابق ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق سابق آرمی چیف چار مقدمات میں ضمانت کے لیے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کر سکتے۔

خواجہ حارث نے اس خدشے کا بھی اظہار کیاکہ سابق فوجی صدر کو اپنے خلاف مقدمے کی تفتیش، ضمانت اور مقدمے کے ٹرائل میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ جہاں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے دشوار مراحل سے گزرنا ہے وہیں کچھ عوامل بھی ہیں جو ان کے دفاع میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کی رائے ہے کہ فوجداری مقدمات میں ملزم کے حق میں جو بڑا اصولی نکتہ ہوتا ہے وہ ’شک کا فائدہ‘ ہے ۔

ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ شک کا فائدہ ایسی سہولت ہے جو ہر وقت ملزم کی جیب میں ہوتی ہے اور ان کے بقول شک کے فائدہ کی گنجائش کا مطلب ہے کہ ملزم نے آدھا مقدمہ جیت لیا ہے۔

ماہرین کے بقول جنرل ریٹائرڈ مشرف کے مقدمات میں گرفتاری سے ضمانت اور تفتیش سے ٹرائل تک تمام مراحل کسی صورت آسان نہیں ہیں تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ پرویز مشرف کے وکلا ان کی بریت کے لیے دفاع میں کیا مواد پیش کرتے ہیں۔

اسی بارے میں