پولیو ٹیم پر فائرنگ،دو لیویز اہلکار زخمی

Image caption گزشتہ سال پاکستان میں اٹھاون بچوں میں پولیو کا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں حکام کے مطابق پولیو ٹیم پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو لیویز اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ٹانک کے ڈپٹی کمشنر محمد علی شاہ کے مطابق ملک میں تین روزہ پولیو مہم کے خاتمے کے بعد جمعہ کو پولیو ٹیمیں ضلع ٹانک کے علاقے گومل میں مہم کے دوران بچ جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے گئی تھی۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں موجود پولیو کی ٹیمیں اپنا کام مکمل کرنے کے بعد جب ایک قافلے کی شکل میں واپس ٹانک جا رہی تھی کہ کوٹ خدک کے مقام پر نامعلوم افراد کی قافلے میں شامل ایک گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک لیویز اہلکار جان عالم زخمی جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے اہلکار محمد ایاز نےگاڑی سے چھلانگ لگا دی اور اس کے نتیجے میں زخمی ہو گئے۔

ڈپٹی کمشنر محمد علی شاہ کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ فائرنگ کے فوری بعد علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کیا گیا۔

ملک میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم بدھ کو ختم ہو گئی تھی اور یہ ٹیم اس علاقے میں’چیکنگ مہم‘ پر تھی جس میں تین روزہ مہم کے دوران بچ جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کے مطابق ان ٹیموں نے پولیس حکام کو ضلع میں اپنی آمد کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا اور ان کی حفاظت کے لیے لیویز اہلکار تعینات تھے۔

پاکستان میں پیر سے تین روزہ انسداد پولیو مہم شروع کی گئی تھی جس میں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تین کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رواں ماہ کی دس تاریخ کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں پولیو مہم کے کارکنان کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

گزشتہ سال پاکستان میں اٹھاون بچوں میں پولیو کا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے ستائیس خیبر پختونخوا جبکہ بیس کا تعلق فاٹا سے تھا۔

پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم ایک عرصے سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔

پولیو ٹیموں پر حملوں پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے ان حملوں کو ’ظالمانہ، احساس سے عاری اور ناقابل معافی‘ قرار دیا تھا۔

گزشتہ سال پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنان پر کئی بار حملہ کیا گیا جس میں متعدد کارکنان ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کے بعد پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنوں کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں جاری پولیو مہم میں شریک اپنے عملے کو واپس بلا لیا ہے اور یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت کے فیلڈ سٹاف کو مزید احکامات تک پولیو مہم میں شرکت سے روک دیا تھا۔

اسی بارے میں