الیکشن کیلیے فوج کی تعیناتی کی دوبارہ سفارش

Image caption فوج کی جانب سے ہر پولنگ مرکز پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی مخالفت کی گئی ہے

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں سے 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ایک مرتبہ پھر پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج کی تعیناتی کی سفارش کی ہے۔

ادھر کمیشن نے عام انتخابات کے لیے بنائے جانے والے 90000 پولنگ مراکز میں سے 21326 کو حساس بھی قرار دے دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے سنیچر کو بھیجے جانے والے خط میں ملک کے مختلف علاقوں میں الیکشن کمیشن کے عملے پر ہونے والے حملوں اور پرتشدد کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی گیارہ وارداتیں ہوئی ہیں اور ڈپٹی الیکشن کمشنر سمیت انیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں جبکہ وہاں الیکشن کمیشن کے ایک دفتر پر دستی بم بھی پھینکا گیا۔

کمیشن نے خیبر پختونخوا میں امیدواروں اور انتخابی جلسوں پر ہونے والے حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے شدت پسندوں کے خوف کی وجہ سے ملک بھر میں سیاسی جلسے جلوس نہیں ہو رہے اور خدشہ ہے کہ اس سے ووٹوں کی شرح پر بھی فرق پڑ سکتا ہے۔

کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے علاوہ عام لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے انتظام کریں اور اس مقصد کے لیے پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن پہلے بھی انتخابات کے دوران فوج تعینات کرنے کی سفارش کر چکا ہے لیکن نگراں حکومت اس بارے میں فیصلہ کرنے میں بظاہر محتاط نظر آتی ہے اور خود فوج کی جانب سے بھی ہر پولنگ مرکز پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی مخالفت کی گئی ہے

Image caption الیکشن کمیشن نے سندھ کو پولنگ کے لیے سب سے حساس صوبہ قرار دیا ہے

نگراں وزیر داخلہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انتخابات کے دوران فوج کی تعیناتی کا فیصلہ الیکشن کمیشن نہیں بلکہ حکومت کرے گی اور فوج ایک سریع الحرکت فورس کے طور پر کام کرے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال میں اسے فوری طور پر طلب کیا جا سکے۔

حساس پولنگ سٹیشن

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 11053 پولنگ سٹیشن حساس اور 10273 انتہائی حساس ہیں۔

کمیشن نے سندھ کو پولنگ کے لیے سب سے حساس صوبہ قرار دیا ہے جہاں بالترتیب 4629 پولنگ مراکز کو انتہائی حساس جبکہ 3621 مراکز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

اس کے بعد سب سے زیادہ حساس پولنگ مراکز پنجاب میں ہیں جن میں سے2911 انتہائی حساس جبکہ 2617 حساس ہیں۔

خیبر پختونخوا میں 2980 مراکز کو حساس اور 1056 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ بلوچستان میں 1071 انتہائی حساس جبکہ 1451 پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں 459 حساس ترین اور 510 حساس پولنگ سٹیشن ہیں جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بھی 11 پولنگ سٹیشنوں کو حساس اور 10 کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں