غداری کا مقدمہ: تین رکنی بینچ تشکیل

Image caption اس سے پہلے سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔

اس سے پہلے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

چیف جسٹس نے یہ فیصلہ پرویز مشرف کے وکلا کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست پر دیا ہے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ چونکہ ان درخواستوں میں اہم نکات اُٹھائے گئے ہیں اس لیے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے فُل کورٹ یا لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

جسٹس جواد ایس جواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 22 اپریل سے ان درخواستوں کی سماعت کرے گا جب کہ جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس اعجاز افضل بھی اس بینچ میں شامل ہیں۔

ان درخواستوں کی گُذشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے توسط سے وفاقی حکومت سے تحریری جواب مانگا ہے کہ وہ بتائیں کہ اُنھوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات سے متعلق 31 جولائی 2009 میں دیے گئے عدالتی فیصلے اور ایوان بالا یعنی سینٹ میں پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چکانے سے متعلق متفقہ طور پر پاس کی گئی قرراردار پر پر کیا اقدامات کیے ہیں۔

عدالتی فیصلے میں پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

وزارتِ قانون کے قائم قام سیکرٹری کے مطابق غداری کے مقدمات پر عمل درآمد کے لیے سیکرٹری داخلہ کو بطور شکایت کندہ مقرر کیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوکر اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات سے متعلق آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں