مشرف کی ضمانت کے بعد کیا ہوگا؟

Image caption فوجداری قانون کے ماہر وکلاء کا کہنا ہے کہ سابق فوجی جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف بھی پولیس نے ان سے تفتیش نہیں کرنی تھی اس لیے عدالت نے ان کا جوڈیشل ریمانڈ دیا ہے

پاکستان میں ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے جوڈیشل ریمانڈ پر جانے کے بعد اب جلد ان کے خلاف مقدمہ کا ٹرائل شروع ہوجائے گا تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کی ضمانت کے بعد رہائی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کسی ملزم کو اس وقت ہی جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجتی ہے جب پولیس کو ملزم سے مزید تفتیش نہیں کرنی ہے اور اسی وجہ سے ملزم کی کی تحویل پولیس واپس لے لی جاتی ہے۔

فوجداری قانون کے ماہر وکلاء کا کہنا ہے کہ سابق فوجی جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف بھی پولیس نے ان سے تفتیش نہیں کرنی تھی اس لیے عدالت نے ان کا جوڈیشل ریمانڈ دیا ہے۔

ماہر قانون راجہ جاوید اقبال کے مطابق جب کسی ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا جاتا ہے اور اس مطلب ہے کہ اب پولیس چالان پیش کرے گی اور ٹرائل شروع ہوجائے گا۔

جاوید اقبال ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سابق فوجی صدر اس تک جوڈیشل ریمانڈ پر قید رہیں گے جب تک ان کو بری نہ کردیا جائے یا پھر ان کی ضمانت پر رہائی نہ ہو۔

ان کا بھی کہنا ہے کہ جب تک ٹرائل شروع نہیں ہوتا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ہر پندرہ دن کے متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کی جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع ہوگی۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے جوڈیشل ریمانڈ پر جانے کے بعد اب پولیس کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کرے اور اس کے لیے پولیس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔

سنیئر وکلاء ملک امجد پرویز نے بتایا کہ پولیس کے پاس پندرہ دنوں کی مہلت ہے اور اس مہلت کے ختم ہونے سے پہلے پولیس کو عدالت میں مکمل یا نامکمل چالان جمع کرانا ہے۔

ان کے بقول اگر پولیس مقررہ مہلت میں مکمل چالان پیش نہیں کرتی ہے تو عدالت اس بات کی نگرانی کرے گی کہ چالان کیوں مکمل نہیں ہوسکا۔

ماہرین قانون اس بات پر متفق ہیں کہ جہاں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مقدمہ میں ان دفعات کو خارج کردیں جن کا مقدمہ سے تعلق نہیں ہے وہیں عدالت مقدمے میں نئی دفعات شامل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

البتہ سینئر وکلاء کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خلاف مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کے اقدام کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

ماہر قانون راجہ جاوید اقبال نے بتایا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو متعلقہ عدالت میں درخواست دینی ہوگی اور اگر یہ درخواست مسترد ہوجاتی ہے تو اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

وکلاء کے مطابق جیسے جسمانی ریمانڈ ختم ہو اور ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا جائے تو ملزم کو ضمانت کا حق مل جاتا ہے۔

سینئر وکلاء ملک امجد پرویز نے بتایا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اور کسی وقت ٹرائل سے ضمانت کے لیے درخواست دائر کرسکتے ہیں تاہم ضروری نہیں کہ ان کی رہائی عمل میں آئے۔

ملک امجد پرویز ایڈووکیٹ نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں اور اگر ان کی ججوں کو غیر قانونی قید میں رکھنے کے مقدمے میں ضمانت ہوجاتی ہے تو وہ اس وقت تک رہا نہیں ہوسکتے جب تک دیگر مقدموں میں ان کی گرفتاری کے بعد ان کی ضمانت نہ منظور ہوجائے۔

اسی بارے میں