نیا راگ یا پرانی راگنی

Image caption ن لیگ کی مخالف جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران میٹرو بس منصوبے کو تنقید کا ہدف بنایا ہے

پاکستان میں آئندہ انتخابات ’تبدیلی‘ بمقابلہ ’جمود‘ کی بنیاد پر لڑے جا رہے ہیں۔ ویسے تو کئی جماعتیں تبدیلی کا نعرہ لگاتی دکھائی دے رہی ہیں لیکن عوامی تاثر کے مطابق اس وقت تحریک انصاف کو تبدیلی اور انقلاب سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

تبدیلی کی علامت کے طور پر تحریک انصاف نے 80 فیصد ایسے افراد کو پارٹی ٹکٹ جاری کیے ہیں جو ماضی میں کبھی بھی میدانِ سیاست کے کھلاڑی نہیں رہے جبکہ 35 فیصد ٹکٹ نوجوانوں کو دیے گئے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئے چہرے روایتی سیاستدانوں کے آبائی حلقوں میں اپنی جگہ بنا سکیں گے؟

لاہور میں قومی اسمبلی کا پہلا حلقہ این اے ایک سو اٹھارہ ہے۔ شاہدرہ کے اس علاقے میں تحریک انصاف کے امیدوار حامد زمان شہر کی ایک نمایاں کاروباری اور فلاحی شخصیت ہیں لیکن سیاست میں ان کا تجربہ صرف اتنے ہی دن کا ہے جتنے انھیں تحریک انصاف کا ٹکٹ لیے ہوئے گزرے ہیں۔

حامد زمان کہتے ہیں ’انسٹھ سال کی عمر میں سیاست کے میدان میں قدم رکھ رہا ہوں لیکن یہ جو جانے پہچانے چہرے ہیں انھوں نے اپنی تین تین چار چار باریوں میں یہاں کوئی کام نہیں کیا۔ اس حلقے کے کا کوئی حال نہیں ایک طرف تو میٹرو بنا دی ہے لیکن دوسری طرف عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔اور اسی بات کا سیاسی فائدہ تحریک انصاف کو ہوگا۔‘

شاہدرہ میں ہی میٹرو بس کا پہلا سٹیشن بھی ہے ۔ میٹرو بس جسے ن لیگ کی مخالف جماعتیں انتخابی مہم کے دوران تنقید کا ہدف بنائے ہوئے ہیں لیکن ن لیگ اسے پنجاب میں اپنی حکومت کی کامیابی کی علامت کے طور مشتہر کرکے توقع لگائے بیٹھی ہے کہ یہ منصوبہ ان کے ووٹوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔

لاہور سے ن لیگ کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں ’جب بھی ہمیں اقتدار ملا ہے۔ ہم نے لاہور کو ترقی دی ہے ۔ اس کا رنگ روپ اور نقشہ بدلا ہے۔ ستانوے سے ننانوے تک تو ہم نے لاہور کی شکل بدل دی اور اب بھی جب ہم یہاں آئے تو ہم نے یہاں میٹرو کی طرح میگا پراجیکٹ بنائے اور لاہور کے لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں۔‘

لاہور میں مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹیریٹ کے باہر کئی روز تک لوگوں کی بھیڑ رہی۔ مسلسل کئی ہفتے یہاں پارلیمانی بورڈ کا اجلاس جاری رہا۔ ٹکٹ کے خواہشمند اور ان کے حامی اس آس میں یہاں ڈیرہ ڈالے ہیں کہ شاید ان کی امید بر آئے اور پھر بالاآخر امیدواروں کا اعلان ہوا بھی لیکن اکثریت وہی پرانے کھلاڑی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما طارق عظیم کہتے ہیں کہ تحریک انصاف جماعت ہی نئی ہے چہرے بھی نئے ہی لائے گی اور ہم اپنے تجربے کی بنیاد پر مقابلہ کریں گے ۔

’ کچھ لوگ کہتے ہیں آپ نے جن لوگوں کو تین تین چار چار بار آزمایا اب انھیں آزمانے کی ضرورت نہیں لیکن ہم کہتے ہیں ہاں ہم ہیں آزمائے ہوئے ۔ جب آپ نے ہمیں آزمایا اور ہمیں موقع دیا تو ہم آپ کی امیدوں پر پورا اترے۔ ہم اس معاملہ پر دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ اپنے تجربے کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔‘

ن لیگ کے امیدواروں میں کوئی خاص نیا چہرہ تو سامنے نہیں آیا لیکن لاہور میں مسلم لیگ ن نے اپنی انتخابی مہم کی حد تک تبدیلی دکھانے کی کوشش ضرور کی اور انتخابی مہم کا آغاز نوازشریف اور شہباز شریف کے بجائے مریم نواز اور حمزہ شہباز نے کیا۔

سیاسی مبصر سہیل وڑائچ کا ماننا ہے کہ اس مرتبہ انتخابات کا اصل میدان پنجاب میں سجے گا اور اہم ٹاکرا ہوگا تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان لیکن یہ امتحان صرف امیدواروں ہی نہیں بلکہ ووٹرز کا بھی ہوگا۔

’اگر آپ پچھلی مرتبہ کا انتخاب دیکھیں تو لاہور میں جو کم سے کم ووٹوں کا فرق تھا جس سے ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو ہرایا وہ اکیس ہزار تھا۔ یہ بہت بڑا فرق ہے لیکن اب جو مجھے لگتا ہے کہ تبدیلی آ سکتی ہے تو اس کی وجہ ہوگی ووٹر ٹرن آؤٹ۔ جو روایتی ٹرن آؤٹ ہے پنجاب میں وہ انتالیس فیصد کے قریب ہے لیکن اس مرتبہ توقع کی جارہی ہے کہ یہ اکیاون فیصد تک جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو مقابلہ بہت سخت ہوجائے گا۔‘

حامد زمان اور ان کی طرح تحریک انصاف کے بہت سے امیدوار ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اب اپنی جماعت کے تبدیلی کے نظریے کو عوام کے سامنے پیش کرنے میں مصروف ہیں کیونکہ ان کے پاس میٹرو جیسے منصوبے تو ہیں نہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ووٹر گیارہ مئی کو گلی، نالی اور کھالے کو ووٹ دیں گے یا پھر ایک نیا نظریہ اور سوچ عوام میں مقبول ٹھہرے گی ۔

اسی بارے میں