جنرل مشرف:’عرش سے فرش پر!‘

Image caption پاکستان میں اس بار جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی پر انہیں سزا ملنے پر اتفاق رائے نظر آتا ہے

’قدم بڑھاؤ پرویز مشرف ہم تمہارے ساتھ ہیں’ کا نعرہ سن کر وطن لوٹنے والے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے شاید کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ان کے ساتھ کچھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے جس کا اب انہیں سامنا ہے۔

ویسے تو کہاوت ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا لیکن پرویز مشرف کے معاملے میں تو وہ کہاوت بھی ٹھیک نہیں بلکہ اگر یوں کہیں کہ وہ ’عرش سے فرش پر‘ گرے ہیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔

کل تک پرویز مشرف کا طوطی بولتا تھا اور ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ فرمان تصور ہوتا تھا لیکن آج وہ ان ہی سپاہیوں کے ہاتھوں قید ہوئے ہیں جو انہیں سلیوٹ کیا کرتے تھے۔

حالانکہ خیال تھا کہ شاید فوج ان کے بچاؤ کے لیے آئے گی لیکن بقول جنرل (ر) حمید گل کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان کی فوج نے انہیں پہلے ہی پیغام بھیجا تھا کہ پاکستان مت آئیں لیکن پرویز مشرف نے فوج کی تجویز نہیں مانی اور اپنے آپ سمیت سب کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔

تاحال جنرل (ر) پرویز مشرف کے حق میں کہیں سے کوئی صدا نہیں آئی ماسوائے ان کے چند گنتی کے ایسے ساتھیوں کے جن کی پاکستان کے سیاسی مارکیٹ میں کوئی بڑی حیثیت نہیں ہے۔ ماضی میں ان کے اتحادی مسلم لیگ (ق) یا ملک بھر کے وہ سردار، وڈیرے، خان اور چوہدری جو دور اقتدار میں انہیں مہنگے تحفے پیش کیا کرتے تھے، اب ان سے نظریں چرا رہے ہیں۔

ایسے لوگوں کی بہت طویل فہرست ہوگی اور پرویز مشرف شاید انہیں یاد کرکے دوران قید سگار کا لمبا کش لگاتے ہوئے ضرور سوچتے ہوں گے کہ ’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘۔

ریٹائرڈ فوجیوں کو پرویز مشرف اپنا حلقۂ احباب کہتے رہے ہیں لیکن ان کی دو تنظیموں ‘ایکس سروس مین سوسائٹی’ کے سربراہ جنرل (ر) فیض علی چشتی اور جنرل (ر) علی قلی خان کی سربراہی میں قائم تنظیم ‘ایکس سروس مین ایسو سی ایشن’ نے ان کے حق میں کوئی بیان نہیں دیا۔

جنرل (ر) فیض علی چشتی نے تو کہا ہے کہ جس نے غلطی کی ہے ان کو سزا ملنی چاہیے اور سب کا احتساب ہونا چاہیے۔ علی قلی خان کی تنظیم کی ویب سائٹ پر جنرل مشرف کے وطن لوٹنے سے پہلے ہی ان کے خلاف فوج کو بدنام کرنے اور آئین توڑنے جیسے الزامات میں کارروائی کے بیانات موجود ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسٹیبلشمینٹ سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے وہاں اس طرح سابق آرمی چیف کو گرفتار کر کے جیل بھیج کر ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔

جہاں بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف کارروائی سے جہاں پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو تقویت ملے گی وہاں جمہوریت بھی مستحکم ہوگی وہیں لیکن بعض تجزیہ کار یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پرویز مشرف کی گرفتاری اور ان پر غداری کا مقدمہ چلنے اور انہیں سزا ملنے کی صورت میں ایک بار پھر فوجی مداخلت کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

یہ خدشہ اپنی جگہ لیکن اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو جس طرح پاکستان میں عدلیہ، میڈیا، سیاستدان اور مذہبی رہنما اب کی بار جمہوری عمل کے تسلسل پر متفق اور سرگرم نظر آتے ہیں ایسے میں ’ملٹری ایڈونچر‘ کا امکان کم ہی لگتا ہے۔

بقول شخصے کہ پاکستان میں اس بار جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی پر انہیں سزا ملنے پر ایسا اتفاق رائے نظر آتا ہے جیسا مسئلہ کشمیر پر کبھی ہوتا تھا۔ اگر جنرل پرویز مشرف کو آئین کی پامالی پر سزا ملتی ہے تو پھر شاید پاکستان میں ہمیشہ کے لیے فوج کے اقتدار پر قبضے کا راستہ روکا جاسکے۔

اسی بارے میں