بلوچستان: سکیورٹی کے لیے ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات

Image caption ’حکومتی مشینری اورانتظامیہ انتخابات میں قطعی طورپرغیرجانبدار رہے گی‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستا ن میں نگراں حکومت نے سیاسی رہنماؤں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے ریٹائرڈ ملازمین کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب غوث بخش خان باروزئی کی زیر صدارت پیر کے روز یہاں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

صوبائی سیکریٹری داخلہ نے اجلاس میں، انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے ، پولنگ اسٹیشنوں میں فورسز کی تعیناتی کے پلان اور ابتدائی طور پر زیادہ حساس،حساس اور معمول کے قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے تجویز دی گئی کہ فورسز کے ریٹائرڈ ملازمین کی عارضی بنیادوں پرخدمات حاصل کر کے انہیں سیاسی رہنماؤں کے تحفظ کے لیے تعینات کیاجائے اور ان ریٹائرڈ ملازمین کوتنخواہ صوبائی حکومت ادا کرے۔ نگراں وزیراعلیٰ نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔

اس اجلاس میں حساس اضلاع اور پولنگ اسٹیشنوں پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کی دوبارہ سے درجہ بندی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انتخابات کے دوران قلات اور مکران ڈویژن کو سیکورٹی کے حوالے سےاولین ترجیح دینے کا فیصلہ بھی ہوا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قلات اور مکران ڈویژن سمیت دیگر ڈویژنوں میں25 اپریل تک سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی کا عمل مکمل کیا جائےگا اور حساس اضلاع میں فورسز کی موجودگی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ صوبے میں پر امن اور سازگار ماحول میں انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام وسائل اور موجود فورسز کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے گا اور متبادل پولنگ سٹاف بھی تیار رکھا جائےگا۔

پولنگ سٹاف کے بھرپور تحفظ سے متعلقہ امور پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہیں حتمی شکل دی گئی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ حکومتی مشینری اورانتظامیہ انتخابات میں قطعی طورپرغیرجانبدار رہے گی اورانتخابی عمل میں کسی قسم کی مداخلت کوہرگز برداشت نہیں کیاجائے گا۔

اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر نواب ثناء اللہ زہری پر ہونے والے بم حملے کے واقعہ جس میں ان کا بیٹا ، بھائی اور بھتیجا جاں بحق ہوئے کی تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت کی روشنی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کے حکام پر مشتمل ہوگی۔

اسی بارے میں