جڑواں شہروں میں مسلم لیگ ن ’مشکلات کا شکار‘

Image caption حلقہ چھپن میں مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی کا مقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن) کے لیے بظاہر مشکلات ماضی کی نسبت زیادہ ہیں اور امکان ہے کہ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اسے قومی اسمبلی کی کم سیٹیں ملیں گی۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی دونوں اور راولپنڈی ضلع کی سات میں سے چھ نشستیں مسلم لیگ (ن) نے جیتی تھیں۔

اسلام آباد کے دو قومی اسمبلی کے حلقوں میں ویسے تو ایک سو اٹھائیس امیدوار میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی میں ہے۔

اسلام آباد کے حلقہ اڑتالیس میں جاوید ہاشمی، فیصل سخی بٹ، انجم عقیل اور میاں اسلم میدان میں ہیں۔

یہاں پیپلز پارٹی کے لیے آئیڈیل صورتحال تو نہیں ہے لیکن دائیں بازو کا ووٹ باقی تینوں جماعتوں کے امیدواروں میں تقسیم کی صورت میں انہیں فائدہ ہو سکتا ہے۔اس بار جاوید ہاشمی کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہےجبکہ حلقہ انچاس میں پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر بظاہر مضبوط امیدوار مانے جا رہے ہیں۔

راولپنڈی میں اس بار پیپلز پارٹی سنہ دو ہزار آٹھ کی نسبت زیادہ نشستیں جیت سکتی ہے۔ راولپنڈی کا حلقہ پچاس جس میں تحصیل مری بھی شامل ہے، یہاں مسلم لیگ (ن) کو مشکل یہ ہے کہ ان کے امیدوار شاہد خاقان عباسی کا اصل مقابلہ تو پیپلز پارٹی کے غلام مرتضیٰ ستی سے ہے۔ لیکن عباسی قبیلے سے دو امیدوار تحریک انصاف اور جمیعت علماء اسلام کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں اور عباسی برادری کا ووٹ تقسیم ہوگا۔

مقامی صحافی وقار ستی کے بقول اس حقلے کے ایک صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کی پیپلز پارٹی حمایت کر رہی ہے اور دوسرا یہ کہ یہاں سے اٹھائیس ہزار ووٹ خارج ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو مبینہ طور پر راولپنڈی اور مری میں ڈبل ووٹ دیتے تھے، اس لیے پیپلز پارٹی کی پوزیشن کافی بہتر ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ اکیاون جو گجر خان کا ہے وہاں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی پوزیشن کافی مستحکم ہے۔

وقار ستی کے بقول گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر لڑنے والے چوہدری ریاض کو اس بار ٹکٹ نہیں ملا اور وہ راجہ پرویز اشرف کی حمایت کی کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے یہاں راجہ جاوید اخلاص امیدوار ہیں جو مشرف دور میں ضلع ناظم رہے ہیں۔

حلقہ باون اور تریپن سے مسلم لیگ (ن) کے چوہدری نثار علی خان امیدوار ہیں۔ باون میں ان کے ساتھ مسلم لیگ (ق) کے راجہ بشارت سے مقابلہ ہے۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ق) کی حمایت کر رہی ہے۔ جبکہ حلقہ تریپن سے پیپلز پارٹی کے انتخاب شاہ اور تحریک انصاف کے غلام سرور چوہدری نثار کے مدِ مقابل ہیں۔

وقار ستی کے مطابق چوہدری نثار کو سنہ دو ہزار آٹھ کی نسبت بہت زیادہ مشکل کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی کی نشست پر آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

وقار ستی کے بقول اس صوبائی حلقے سے چوہدری تنویر کے بھتیجے کو ٹکٹ دینے کی چوہدری نثار نے مخالفت کی اس لیے وہ آزاد حیثیت سے لڑ رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے یہ سیٹ اوپن رکھی ہے اور جو بھی جیتے گا وہ ان کا ہوگا۔ چوہدری نثار کو آزاد امیدوار کے طور پر گائے کا نشان ملا ہے اور لوگ تذبذب کا شکار ہیں کہ گائے اور شیر دونوں چوہدری نثار کے نشان کیسے ہیں؟

قومی اسمبلی کا حلقہ چون 54 میں پیپلز پارٹی کے زمرد خان اور مسلم لیگ (ن) کے ملک ابرار احمد میں اصل مقابلہ ہے۔

اس حلقہ میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حنا منظور امیدوار ہیں۔ سنہ دو ہزار دو میں اس حلقہ سے زمرد خان اور سنہ دو ہزار آٹھ میں ملک ابرار جیتے تھے۔ مقامی صحافی عاصم یاسین کے مطابق اب دونوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور صورتحال ففٹی ففٹی ہے۔

حلقہ پچپن سے شیخ رشید کو تحریک انصاف کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے شکیل اعوان سے ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری افتخار احمد کی پوزیشن کمزور ہے، وہ پرانے جیالے ہیں۔اس حلقہ میں مسلم لیگ (ن) کو سبقت حاصل ہے۔ حلقہ چھپن میں مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی کا مقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ہے۔ یہاں پیپلز پارٹی کے امیدوار اسرار عباسی ہیں۔ اس حقلہ میں بھی تاحال مسلم لیگ (ن) کو سبقت حاصل ہے۔ عمران خان نے تاحال مہم ہی شروع نہیں کی۔

حلقہ پچپن اور چھپن میں پیپلز پارٹی کی واحد امید یہ ہے کہ اگر دائیں بازو کا ووٹ مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں میں تقسیم ہو جائے اور جیالے پیپلز پارٹی کے لیے نکل آئیں تو شاید ان کے بھاگ جاگیں۔

صحافی عاصم یاسین کہتے ہیں کہ تاحال عمران خان کی توجہ راولپنڈی پر نہیں ہے لیکن وہ شیخ رشید سے مل کر اگر بڑے جلسے جلوس کرنے میں کامیاب ہوگئے اور نوجوانوں نے ان کا ساتھ دیا تو وہ اپ سیٹ کر سکتے ہیں لیکن ان کے بقول اب تک ان دونوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں