’سینیٹ میں بطور قائد ایوان مستعفی نہیں ہوا‘

Image caption نگراں وزیراعظم کے اقدامات کے دفاع سے انکار کیا تھا: جہانگیر بدر

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا میں قائد ایوان جہانگیر بدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے بطور قائد ایوان استعفیٰ نہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری کیے جانے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جہانگیر بدر مستعفی ہو گئے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق انھوں نے پندرہ اپریل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سیکرٹری جنرل اور سینیٹ میں قائد ایوان جہانگیر بدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو انہوں نے قائد ایوان کے طور پر استعفیٰ دیا ہے اورنہ ہی کسی کے پاس ان کے استعفے کی کاپی ہے۔

جہانگیر بدر نے کہا کہ انہوں نے نگراں وزیراعظم کے اقدامات کے دفاع سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ وہ پچھلے منتخب وزیراعظم کی نمائندگی کر رہے تھے اس لیے وہ نگراں وزیراعظم کے لیے یہ کام نہیں کریں گے۔

’نگراں حکومت کے اقدامات کے تحفظ کے لیے نگراں کابینہ موجود ہے اور اپنا یہ موقف اپنانے کے بعد میں سینیٹ کی پچھلی نشستوں پر بیٹھ گیا تھا۔‘

جہانگیر بدر نے مزید کہا کہ آئین کے تحت ان کا استعفیٰ تحریری ہونا چاہیے تھا جوکہ کسی کے پاس نہیں اور نہ ہی انہوں نے سینیٹ میں اپنی تقریر کے دوران استعفے کا لفظ استعمال کیا۔

جہانگیر بدر کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا نمائندہ ہونے کی حیثیت میں وہ پارٹی سے پوچھے بغیر کیسے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔

ان کے استعفے سے متعلق سینیٹ سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی نے یہ نوٹیفیکیشن جاری کر کے’اپنی کسی خواہش کا اظہار کیا ہے‘۔

لاہورمیں ان کی مرضی کے لوگوں کوانتخابات کے لیے ٹکٹ نہ ملنے پر ان کی ناراضگی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ٹکٹ ان کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی وہ ٹکٹ کے لیے پیپلزپارٹی میں آئے ہیں۔

اسی بارے میں