’امن معاہدہ قائم رکھنا مشکل ہے‘

Image caption مقامی قبائل، طالبان اور حکومت کے مابین 2007 میں امن معاہدہ ہوا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے مقامی عمائدین اور شوریٰ مجاہدین کے نام سے طالبان کی تنظیم نے کہا ہے کہ فوج کی طرف سے باربار کرفیو کے نفاذ اور میرانشاہ میں ہسپتال اور لڑکیوں کے سکول و کالج کے راستے بند ہونے کی وجہ سے انہیں حکومت کے ساتھ اپنا امن معاہدہ قائم رکھنے میں دقت ہورہی ہے۔

اس سلسلے میں مقامی طالبان کے اعتماد کی حامل پانچ رکنی امن کمیٹی نے فوج کو ان مشکلات سے آگاہ کر کے ان سے ان مسائل کا حل مانگا ہے۔

واضح رہے کہ مقامی قبائل، طالبان اور حکومت کے مابین 2007 میں امن معاہدہ ہوا تھا۔

مقامی قبائیلی عمائدین کا کہنا ہے کہ کرفیو کے نفاذ اورچیک پوسٹوں کے قیام سے پیدا شدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے فوج اورمقامی طالبان کے مابین رابطے کے لیے مفتی صدیق، حاجی جان فراز، رئیس خان، سرفراز خان اورمولوی احمد پرمشتمل امن کمیٹی نے یہاں متعین پاکستانی فوج کے انچارج کرنل سے ملاقات کی اورانہیں بتایا کہ چھ سات دن تک کے لیے کرفیو لگانے سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان عمائدین کا کہنا ہے کہ امن کمیٹی نے فوج کوبتایا کہ وہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے ہروقت تعاون کرتے ہیں اس لیے فوج بھی علاقے میں کوئی بھی ردعمل ظاہرکرتے ہوئے لوگوں کا خیال رکھے جس کے جواب میں فوج کے مقامی انچارج نے انہیں بتایا کہ چیک پوسٹوں کے ہٹانے، کرفیونہ لگانےاورمیرانشاہ یا کہیں اورکوئی حفاظتی قدم اٹھانے سے متعلق کسی معاملے پرحتمی جواب دینے کے لیے انہیں وقت چاہیے جس کے بعد اگلی ملاقات کے لیے بدھ کا دن مقررکیا گیا ہے۔

بعض مقامی لوگوں نے بی بی سی کوبتایا کہ فوج کے پاس جانے والی امن کمیٹی کوعلاقے میں حافظ گل بہادر کی مقامی طالبان پرمشتمل شوریٰ مجاہدین کا اعتماد حاصل ہے اوروہ کہتے ہیں کہ حکومت اگر ان سے بات کرنا چاہتی ہے تو وہ صرف اس کمیٹی کے ذریعے ہی بات چیت کریں گے۔

مقامی لوگ اور شوریٰ مجاہدین نامی یہ تنظیم میرانشاہ میں سول کالونی میں لڑکیوں کے سکول اورکالج کو جانے والے راستے کے آگے دیوار بنانے سے ناخوش ہیں اورکہتے ہیں کہ جب یہ لڑکیاں بازارسے گزرتی ہیں تو ان کی بے پردگی ہوتی ہے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والے اسی شوریٰ کے جاری کیے گئے پمفلٹ میں لوگوں کو منع کیا گیا ہے کہ وہ یہ راستہ دوبارہ نہ کھلنے تک اپنی بچیوں کوان تعلیمی اداروں میں نہ بھیجیں۔

اسی بارے میں