پاکستان کے انتخابی حلقے:این اے 17 سے این اے 32 تک

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے 272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔ اس سلسلے کی دوسری قسط میں این اے 7 1 سے این اے 32 پر نظر ڈالی گئی ہے۔

پہلی قسط: حلقہ این اے 1 سے این اے 16 تک

ایبٹ آباد

Image caption ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے جاری تحریک صوبہ ہزارہ کے اہم رہنما بابا حیدر زمان بھی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں

ان حلقوں کی ابتدا ہزارہ ڈویژن کے ضلع ایبٹ آباد سے ہوتی ہے جہاں 2008 میں قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں سے مسلم لیگ ن کو کامیابی ملی تھی۔

این اے 17 ایبٹ آباد ون سے جیتنے والے سردار مہتاب خان عباسی ہی اس بار بھی مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں لیکن ان کے مدمقابل دس امیدواروں میں سے نو چہرے نئے ہیں۔گزشتہ الیکشن میں ان سے شکست کھانے والے ڈاکٹر اظہر خان جدون اس بار پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے اور وہی ان کے مضبوط حریف نظر آتے ہیں ـ

این اے 18 ایبٹ آباد 2 میں بھی مسلم لیگ ن نے اپنے سابق ایم این اے مرتضیٰ جاوید عباسی کو میدان میں اتارا ہے۔گزشتہ الیکشن میں دوسرے نمبر پر آنے والے سردار محمد یعقوب اس مرتبہ مسلم لیگ ق کی بجائے تحریک انصاف کی جانب سے امیدوار ہیں۔ ان کے علاوہ اس حلقے سے تیسرا اہم نام ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے جاری تحریک صوبہ ہزارہ کے اہم رہنما بابا حیدر زمان کا ہے۔

ہری پور

ضلع ہری پور میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ این اے 19 ہے۔ گزشتہ انتخابات میں یہاں مسلم لیگ ن کے سردار محمد مشتاق خان نے مسلم لیگ ق کے امیدوار اور سابق وزیر عمر ایوب کو ہرایا تھا لیکن اس بار عمر ایوب خود مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ تحریکِ انصاف کے راجہ عامر زمان سے ہے۔ اس نشست پر دو خواتین بھی مقابلہ کر رہی ہیں جن میں ارم فاطمہ اے این پی جبکہ فائزہ رشید آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی ـ

مانسہرہ

Image caption اس حلقے سے مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر بھی الیکشن لڑ رہے ہیں

این اے 20 مانسہرہ 1 سےگزشتہ الیکشن میں جیتنے والے سردار شاہجہاں بھی سیاسی وابستگی تبدیل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر جیتا لیکن اب وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔ اس مرتبہ ان کے مدِمقابل اہم امیدواروں میں دو سابق ارکانِ اسمبلی سید قاسم علی شاہ اور اعظم سواتی ہیں جو بالترتیب جمعیت علمائے اسلام اور تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر میدان میں اترے ہیں۔

حلقہ این اے 21 مانسہرہ ٹو کا نام اب مانسہرہ کم تورغر ہے۔2008 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر جیتنے والے فیض محمد خان کی وفات کے بعد ضمنی انتخاب میں یہ نشست جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار لائق خان نے جیتی تھی۔ لائق خان اس مرتبہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار ہیں اور ان کا سامنا تحریک انصاف کے نوابزادہ صلاح الدین سے ہے جو گزشتہ بار یہیں سے آزاد امیدوار تھے۔ اس حلقے سے مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

بٹ گرام، کوہستان

2008 میں این اے 22 بٹگرام کی نشست مسلم لیگ ق نے جیتی تھی تاہم دلچسپ بات ہے کہ اس مرتبہ یہاں سے اس جماعت نے اپنا کوئی امیدوار کھڑا ہی نہیں کیا۔ گزشتہ الیکشن جیتنے والے محمد نواز خان اس بار آزاد اور ان سے شکست کھانے والے قاری محمد یوسف متحدہ مجلس عمل کی جگہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار ہیں۔ تحریکِ انصاف نے یہاں سے نیاز محمد خان کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 23 کوہستان کی نشست گزشتہ الیکشن میں آزاد امیدوار محبوب اللہ کے حصے میں آئی تھی جو اب جماعت اسلامی کے امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ ق نے اس بار ملک اورنگزیب کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک سید احمد ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان

Image caption پی پی پی نے مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں وقار احمد خان کو اتارا ہے

2008 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 24 پی پی پی کے فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام(ف) مولانا فضل الرحمان کو 38000 سے زائد وٹوں سے ہرا کر جیتی تھی۔ وہ بعدازاں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بنے۔ اس بار وہ تو اس نشست سے امیدوار نہیں اور پی پی پی نے مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں وقار احمد خان کو اتارا ہے۔ ماضی کی معروف اداکارہ مسرت شاہین بھی اس حلقے کے 33 امیدواروں میں شامل ہیں۔

مولانا فضل الرحمان ڈی آئی خان کم ٹانک این اے 25 سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں اور اس مرتبہ این اے 24 کی جگہ یہاں ان کا مقابلہ فیصل کریم کنڈی سے ہے۔

بنوں

حلقہ این اے 26 بنوں سے گزشتہ الیکشن میں مولانا فضل الرحمان نے کامیابی حاصل کی لیکن اس بار یہاں سے جے یو آئی ف کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ پی پی پی کے انور سیف اللہ سے ہے۔ اس حلقے سے دیگر سترہ امیدواروں میں پی ٹی آئی کے مطیع اللہ خان، ن لیگ کے ملک اختر اور جماعت اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم خان کے نام نمایاں ہیں۔

لکی مروت

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 27 سے 2008 میں مسلم لیگ ق کے ہمایوں سیف اللہ جیتے تھے۔ ہمایوں سیف اللہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں تاہم اس بار اس حلقے سے پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار انتخاب میں حصہ نہیں لے رہا۔ اس مرتبہ یہاں سے مسلم لیگ (ن) کے سلیم سیف اللہ کا مقابلہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ہو گا۔ یہاں سے اے این پی نے علی سرور، پی ٹی آئی نے کرنل (ر) امیر اللہ مروت جبکہ ق لیگ نے محمد جاوید انور خان مروت غزنی خیل کو ٹکٹ دیا ہے۔

بونیر

گزشتہ بار این اے 28 ، بونیر سے جیت حاصل کرنے والے عبدالمتین کی وفات کے بعد ضمنی انتخاب میں اے این پی کے ہی استقبال خان نے کامیابی حاصل کی۔ اس بار یہاں سے کل تیرہ امیدوار میں ماسوائے آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پاٹی کے دیگر تمام نئے امیدوار ہیں۔ اے این پی نے اس بار ٹکٹ عبدالرؤف کو دیا ہے۔

سوات

Image caption امیر مقام ق لیگ کے بجائے اس بار مسلم لیگ ن کے لیے انتخابی عمل میں شامل ہیں

2008 کے انتخابات میں ضلع سوات میں نیشنل اسمبلی کے حلقہ این اے 29سوات 1 سے عوامی نیشنل پارٹی کے مظفرالملک نے کامیابی حاصل کی تھی ـ اس بار اس حلقے سے اے این پی کے مظفرالملک، پی پی پی سے دوست محمد خان، ن لیگ سے سید محمد علی شاہ اور پی ٹی آئی سے مراد سعید سمیت چودہ امیدوار مدمقابل ہیں۔

این اے30 سوات2 سے پی پی کے امیدوار سید علاؤالدین کو جیت ملی۔ انھیں کے مدمقابل آئندہ انتخابات میں دوسرا اہم نام امیر مقام کا ہے جو قاف لیگ کے بجائے اس بار مسلم لیگ ن کے لیے انتخابی عمل میں شامل ہیں۔

شانگلہ پار

این اے 31 شانگلہ پار ضلع میں ہے جہاں سے گزشتہ بار قاف لیگ کے امیدوارامیر مقام نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس بار ق لیگ کا ٹکٹ عبدالراج خان کو ملا ہے۔

چترال

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 32چترال سے ن لیگ کے شہزادہ محی الدین کامیاب قرار پائے تھے آئندہ انتخابات کے لیے اس حلقے کے امیدواروں کی کل تعداد گیارہ ہے۔ یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات منظور ہوئے تھے جنہیں بعد ازاں اپیل ٹربیونل نے مسترد کر دیا تھا۔