قریبی رشتہ دار خواتین انتخابات میں آمنے سامنے

Image caption گیارہ مئی کے انتخابات کے لیے چار بہنوں کے علاوہ دو سوکنیں بھی اپنی انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں

پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں جہاں پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کی دو قریبی رشتہ دار خواتین ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں، وہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی بیوی کلثوم نواز کی کزن کا سامنا ہے۔

گیارہ مئی کے انتخابات کے لیے چار بہنوں کے علاوہ دو سوکنیں بھی اپنی انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور اور ڈاکٹر عذرا پیچوہو پیپلز پارٹی کی جانب سے امیدوار ہیں۔اسی طرح سابق رکن اسمبلی نذیر جٹ کی نااہلی کے بعد اب کی بیٹیاں عائشہ نذیر اور عافیہ نذیر صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی سے امیدوار ہیں۔

نذیر جٹ کی دونوں بیویاں بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں تاہم یہ دونوں سوکنیں ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ قومی اور صوبائی حلقوں میں امیدوار ہیں۔

Image caption پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کی نند فریال تالپور کا مقابلہ سابق وزیر اعظم کی بھابھی یعنی غنویْ بھٹو سے ہے

پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کی نند فریال تالپور کا مقابلہ سابق وزیر اعظم کی بھابھی یعنی غنویْ بھٹو سے ہے۔

نذیر جٹ کی ایک بیوی اور ایک بیٹی کا مقابلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی امیدواروں سے ہے۔

مسلم لیگ نون کی تہمینہ دولتانہ کے مدمقابل نذیر جٹ کی بیوی عابدہ دیبا اور پیپلز پارٹی کی نتاشا دولتانہ کے مدمقابل ڈاکٹر عافیہ نذیر ہیں۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے مدمقابل بھی دو خواتین امیدوار یعنی تحریک انصاف کی یاسمین راشد اور کلثوم نواز کی کزن سائرہ زبیر میدان میں ہیں۔ سائرہ زبیر معروف پہلوان زبیر عرف جھارا کی بیوہ ہیں اور جنرل مشرف کی جماعت کی جانب سے امیدوار ہیں۔

نواز شریف کے بھتیجے حمزہ شہباز کو بھی قومی اسمبلی کی نشست پر عائشہ احد ملک کا سامنا ہے۔عائشہ احد کا دعویْ ہے کہ وہ حمزہ شہباز کی بیوی ہیں۔

Image caption نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اپنے والد کی انتخابی مہم بھر پور انداز میں چلا رہی ہیں

نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اپنے والد کی انتخابی مہم بھر پور انداز میں چلا رہی ہیں اور انتخابی پوسٹرز پر مریم نواز کی تصاویر ہیں۔

سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر ان خواتین میں شامل ہیں جو اپنے والد کی بی اے کی ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے دو بار رکن قومی اسمبلی چنی گئی تاہم اس بار وہ اپنے والد ملک نور ربانی کے حق میں دستبردار ہوگئی۔

فیصل آباد سے پیپلز پارٹی کی سابق رکن قومی اسمبلی راحیلہ بلوچ بھی اپنے والد کے انتخاب لڑنے کے باعث عام نشست سے امیدوار نہیں ہیں۔

مسلم لیگ نون کی سمیرا یاسر رشید اپنے سسر میاں رشید کی جگہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں تاہم اب ان کے سسر بی اے کی شرط ختم ہونے پر خود انتخاب لڑ رہے ہیں۔

مسلم لیگ نون کی ماروی میمن مخصوص نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھیں تاہم اس بار وہ سندھ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے امیدوار ہیں۔

سابق وزیر دفاع اور تحلیل ہونے والے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے سربراہ راؤ سکندر اقبال کی بیوہ اوکاڑہ سے پیپلز پارٹی کی امیدوار ہیں۔

Image caption سائرہ زبیر معروف پہلوان زبیر عرف جھارا کی بیوہ ہیں اور جنرل مشرف کی جماعت کی جانب سے امیدوار ہیں

پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کے سینیٹر ہونے کی وجہ سے ان کی اہلیہ بشریْ اعتزاز لاہور سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہی ہیں۔

فمیہدہ مرزا، سمیرا ملک، فردوس عاشق اعوان، ثمینہ گھرکی، فریال تالپور، عذرا افضل پچوہو، سائرہ افضل تارڑ، غلام بی بی بھروانہ، صائمہ بھروانہ، فرخندہ امجد اورخدیجہ عامر کا شمار ان ارکان قومی اسمبلی میں ہوتا ہے جو دوسری اور تیسری مرتبہ انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔

جمعت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نے کسی خاتون کو عام نشستوں کے لیے ٹکٹ نہیں دی تاہم جمعت علماء اسلام کے سربراہ فضل الرحمان کے مدمقابل فلم سٹار مسرت شاہیں امیدوار ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی بھی کراچی سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔اس حلقے سے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف بھی امیدوار تھے تاہم ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔

خواتین کو انتخابات میں عام نشستوں پر ٹکٹ دینے میں پیپلز پارٹی سرفہرست ہے جبکہ مسلم لیگ نون دوسرے اور تحریک انصاف تیسرے نمبر پر ہیں۔

اسی بارے میں