پاکستان کے انتخابی حلقے:این اے 33 سے این اے 47 تک

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے 272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔ اس سلسلے کی تیسری قسط میں این اے 33 سے این اے 47 پر نظر ڈالی گئی ہے۔

پہلی قسط: حلقہ این اے 1 سے این اے 16 تک دوسری قسط: حلقہ این اے 17 سے این اے 32 تک صوبہ خیبر پختونخواہ سے قومی اسمبلی کے آخری تین حلقے ضلع اپر دیر ، ضلع لوئر دیر اور مالاکنڈ پروٹیکٹیڈ ایریا میں شامل ہیں۔

دیر

گزشتہ انتخابات میں این اے 33 اپر دیر کم لوئر دیر کی نشست پیپلز پارٹی کے نجم الدین خان نے حاصل کی تھی۔ آئندہ انتخابات کے لیے اس حلقے میں ان کا سامنا کرنے کے لیے اے این پی نے اپنے سابقہ امیدوار نوید انجم خان کو ہی چنا ہے۔ پی ٹی آئی نے محمد نواز، ن لیگ نے محمد ملک زیب خان جبکہ جماعت اسلامی نے صاحبزادہ طارق اللہ اور جے یو آئی فضل الرحمان گروپ نے مولانا فضلے عظیم کو ٹکٹ دیا ہے۔

2008 کے عام انتخابات میں این اے 34 لوئر دیر سے بھی پیپلز پاٹی کے امیدوار ملک عظمت خان نے واضع اکثریت حاصل کی۔ اس بار ملک عظمت خان کا سامنا کرنے والے 14 امیدواروں میں آزاد امیدوار نصرت بیگم بھی شامل ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئے امیدواروں کو آزمانے کا رجحان اس حلقے میں بھی نظر آتا ہے جہاں مسلم لیگ ن نے فرید خان یوسفزئی، جماعت اسلامی نے صاحبزادہ محمد یعقوب اور پی پی پی نے محمد بشیر خان جبکہ اے این پی نے بھی نئے نام محمد اعظم خان کو منتخب کیا ہے۔

ملاکنڈ پروٹیکٹیڈ ایریا(پاٹا)

Image caption پی پی پی کے امیدوار لال محمد خان کی اس حلقے میں پوزیشن مضبوط سمجھی جا رہی ہے

قومی اسمبلی کے حلقوں کی ترتیب میں صوبہ خیبر پختونخوا کا آخری حلقہ این اے 35ملاکنڈ پروٹیکٹیڈ ایریا کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ ملاکنڈ ڈویژن، خیبر پختونخوا کے اضلاع اور فاٹا کے درمیان میں آتا ہے جسے صوبے کے زیرانتظام قبائلی علاقہ پاٹا تصور کیا جاتا ہے۔

گزشتہ انتخابات میں یہ حلقہ بھی پیپلز پارٹی نے اپنے نام کیا تھا۔اس نشست کے لیے اب 6 کی بجائے 11 امیدوار حتمی فہرست میں شامل ہوئے ہیں جن میں گزشتہ بار کامیابی حاصل کرنے والے پی پی پی کے مضبوط امیدوار لال محمد خان کے مقابلے میں ایسا کوئی امیدوار نہیں جس نے اس حلقے سے گزشتہ انتخابات میں حصہ لیا ہو۔ جماعت اسلامی نے بختیار معانی ، پی ٹی آئی نے جنید اکبر، اے این پی نے رحمت شاہ ساسیل مسلم لیگ ن نے حاجی محمد فدا جبکہ جے یو آئی (ف) نے حافظ محمد سعید کو ٹکٹ دیا ہے۔

قبائلی علاقہ جات

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات میں7 ایجنسیاں ہیں جن میں قومی اسمبلی کے کل 12 حلقے شامل ہیں۔ قبائلی علاقہ جات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ 2011 کے نفاذ کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ اُمیدوار کسی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ فاٹا سے ہی بڑی پیش رفت یہ ہے کہ پہلی بار کوئی خاتون امیدوار جن کا نام بادام زری ہے انتخابات میں حصہ لیں گی۔

مہمند ایجنسی

فاٹا کے 12 حلقوں کی ابتدا مہمند ایجنسی سے ہوتی ہے جو این اے 36 قبائلی علاقہ 1 ہے۔ گزشتہ بار اس حلقے سے 21 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا یہ تعداد اب 40 ہو چکی ہے۔ کامیاب ہونے والے بلال رحمان اس بار بھی میدان میں ہیں تاہم انھوں نے کسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

پیپلز پارٹی نے ڈاکٹر فاروق افضل، جماعت اسلامی نے غلام محمد صادق، تحریک انصاف نے داؤد شاہ جبکہ مسلم لیگ نون نے زرخان صافی کو اس نشست کے حصول کی ذمے داری سونپی ہے۔

کرم ایجنسی

Image caption ساجد حسین طوری اس بار بھی آزاد امیدوار ہیں

کرم ایجینسی میں قومی اسمبلی کے 2 حلقے ہیں۔

این اے 37 کرم ایجنسی کی تحصیل پاڑہ چنار پر مشتمل ہے۔گزشتہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے ساجد حسین طوری اس بار بھی اس بار بھی آزاد امیدوار ہیں۔ جبکہ سیاسی جماعتوں میں پی ٹی آئی نے حفیظ اللہ، اے این پی نے رجب علی، مسلم لیگ ن نے عبدالحمید اورکزئی، جے یو آئی (ف) نے مولانا عین الدین شاکر جبکہ ایم کیو ایم نے ممتاز بھائی کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 38 قبائلی علاقہ 3 کرم ایجنسی کے دیگر علاقوں کو کور کرتا ہے۔ یہاں سے گزشتہ بار مدمقابل امیدواروں کی تعداد 20 تھی جن میں منیر خان اورکزئی بھاری اکثریت سے کامیاب قرار پائے تھے تاہم اس بار وہ اس نشست کے لیے جے یو آئی (ف) کے امیدوار ہیں۔

اس نشست کے لیے تحریک انصاف نے حضرت نبی کو، پی پی پی نے ملک ذوالفقار علی کو جبکہ مسلم لیگ (ن) نے نوید احمد خان کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہاں سے امیدواروں میں بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی ہے۔

اورکزئی ایجنسی

اورکزئی ایجنسی حلقہ این اے 39 قبائلی علاقہ 4 میں آتا ہے۔ گذشتہ بار وہاں آزاد امیدوار جواد حسن نے اپنے مدمقابل 13 آزاد امیدواروں کو شکست دی تھی۔ جواد حسن اب پی پی پی کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن نے اس نشست کے لیے سپِن گل، اے این پی نے سید بشارت حسن، پی ٹی آئی نے ملک عتیق الرحمان کو نامزد کیا ہے۔

شمالی وزیرستان

شمالی وزیرستان کے حلقہ این اے 40 قبائلی علاقہ 5 ہے۔

اس نشست کے لیے مدمقابل 20 آزاد امیدواروں میں محمد کامران خان کامیاب ہوئے تھے۔ اس بار اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف نے انجینیئر عبدالقیوم، جے یو آئی نے پیر محمد عقل شاہ عرف پیر عقل جان، جماعت اسلامی نے محمد مشال خان جبکہ پیپلز پارٹی نے ملک خان دراز کو نامزد کیا ہے۔

جنوبی وزیرستان

شمالی وزیرستان سے متصل جنوبی وزیرستان قومی اسمبلی کے 2 حلقوں پر مشتمل ہے۔

حلقہ این اے اکتالیس قبائلی علاقہ 6 میں گزشتہ بار 11 امیدواروں میں مولانا عبدالملک وزیر کامیاب ہوئے تھے۔ آئندہ انتخابات میں اس نشست کے لیے مدمقابل کل 38 امیدواروں میں زیادہ تر تعداد آزاد امیدواروں کی ہے۔

یہاں سے جے یو آئی (ف) نے گزشتہ بار کامیاب ہونے والے مولانا عبدالماک وزیر، جماعت اسلامی نے مولانا ریحان اللہ ، اے این پی نے محمد ایاز، مسلم لیگ ن نے غالب خان، پی ٹی آئی نے عجب گل وزیر جبکہ پیپلز پاٹی نے امان اللہ کو ٹکٹ دیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے حلقہ این اے 42 قبائلی علاقہ 7 میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے باعث وہاں سے لوگ نقل مکانی کر گئے تھے۔ اس وجہ سے اس حلقے میں انتخابات نہیں ہوئے تھے۔ تاہم اس بار نقل مکانی کرنے والے کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک اور ڈی آئی خان میں ووٹ ڈالنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار دلاور خان، پی پی پی کے شاہ فہد انصاری ایڈووکیٹ، جے یو آئی (ف) کے مولانا محمد جلاالدین محسود اور پی ٹی آئی کے دوست محمد خان مد مقابل ہیں۔ اس نشست کے امیدواروں کی کل تعداد 17 ہے اس فہرست میں اے این پی کا کوئی امیدوار شامل نہیں ہے۔

باجوڑ ایجنسی

Image caption قبائلی علاقوں کی نشست کے لیے واحد خاتون امیدوار بادام زری این اے 44 سے انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں

این اے 43 قبائلی علاقہ 8 باجوڑ ایجنسی میں تحصیل ماموند، نواگئی، چمرکنڈ اور خار شامل ہیں۔ 2008 کے انتخابات میں اس حلقے سے 8 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا جبکہ کامیابی شوکت اللہ خان کو ملی۔ اس بار پی پی پی نے سعید الرحمان، جماعت اسلامی نے صاحبزادہ ہارون الرشید جبکہ مسلم لیگ (ن) نے عبداللہ اور جے یو آئی (ف) نے مولوی محمد صادق کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ امیدواروں کی مجموعی تعداد 16 ہے۔ اس حلقے سے پی پی پی اور اے این پی نے کوئی امیدوار کھڑا نھیں کیا۔

باجوڑایجنسی میں تحصیل سلارزئی،تحصیل اتمانزئی، تحصیل برنگ اور خار قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 44 قبائلی علاقہ 9 پر مشتمل ہے۔اس حلقے سے گزشتہ بار سید اخونزادہ چٹان کامیاب ہوئے تھے۔ جعلی ڈگری کے باعث وہ پہلے نااہل قرار پائے تاہم بعد میں انہیں انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی اور وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر دیگر 24 امیدواروں کا مقابلہ کریں گے جن میں پی ٹی آئی کے گل داد خان، اے این پی کے گل افضل، جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالرشید اور ن لیگ کے شہاب الدین کا نام بھی شامل ہے۔ قبائلی علاقوں کی نشست کے لیے واحد خاتون امیدوار بادام زری نے اسی نشست کے حصول کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ 53 سالہ بادام زری پڑھی لکھی نہیں ہیں اور وہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

خیبر ایجینسی

Image caption حلقہ این اے 45 سے نورالحق قادری کامیاب ہوئے تھے

قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 45 قبائلی علاقہ 10 جمرود، لنڈی کوتل اور ملاغر پر مشتمل ہے۔ 2008 کے انتخابات میں اس حلقے سے نورالحق قادری کامیاب ہوئے تھے اس بار اس نشست کے امیدواروں میں پی پی پی کے حضرت ولی، پی ٹی آئی کے خان شید آفریدی اور اے این پی کے ملک دریا خان، جے یو آئی کے سید جان اور مسلم لیگ ن کے زاہد خان آفریدی سمیت 18 امیدوار مدمقابل ہیں۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ حلقہ این اے46 قبائلی علاقہ 11 کہلاتی ہے جو تحصیل باڑہ پر مشتمل ہے۔گزشتہ بار اس نشست سےحمید اللہ جان آفریدی نے واضع اکثریت حاصل کی تھی۔ اس بار مدمقابل 12امیدواروں میں زیادہ تر تعداد آزاد امیدواروں کی ہی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں جے یو آئی نے حاجی شمس اللہ، مسلم لیگ ن نے سہیل احمد، جماعت اسلامی نے شاہ فیصل آفریدی جبکہ تحریک انصاف نے محمد اقبال خان کو ٹکٹ دیا ہے تاہم پی پی پی اور اے این پی اس نششت کے حصول کی دوڑ میں شامل نہیں۔

فرنٹیئر ریجن

قومی اسمبلی کا حلقے این اے 47 قبائلی علاقہ 12 ایف آر کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ جن میں ایف آر بنوں، ایف آر پشاور، ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی، ایف آر ڈی آئی خان اور ایف آر ٹانک شامل ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جن کی سرحدیں قبائلی ایجنسیوں سے متصل ہیں۔ 2008 کے انتخابات میں اس حلقے سے ظفر بیگ بٹینی کامیاب ہوئے تھے جبکہ اس بار 36 امیدوار میدان میں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں میں جے یو آئی (ف) کے مفتی عبدالشکور بٹینی، جماعت اسلامی کے محمد رسول آفریدی ، مسلم لیگ ن کے ملک حاجی گل باز آفریدی، اے این پی نے ملک حاجی شاہر خان شیرانی، پی ٹی آئی نے قیصر اقبال کو ٹکٹ دیا ہے۔

اسی بارے میں