نام سے کچھ نہیں ہوتا

Image caption کیا ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کے تاریخی لاڑکانہ ووٹ بینک میں واقعی کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟

پاکستان کی انتخابی سیاست میں پہلی مرتبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ کی سیاست کے تیور کچھ بدلے بدلے نظر آ رہے ہیں۔

سابق حکومت کی گذشتہ پانچ سال کی کارکردگی کے بعد لوگوں کی مایوسی پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی گڑھ سے بھی ٹپک رہی ہے۔ بہت سے بااثر سیاسی قبیلے پی پی پی کا ساتھ چھوڑ کر اپنے اپنے حلقوں سے یا تو آزاد امیدوار کھڑے کر رہے ہیں یا دوسری جماعتوں کا رخ کر رہے ہیں۔

شیخ برادری اور میرانی برادری کے سرداروں کے منھ موڑنے کے بعد اب لاڑکانہ کے اہم حلقے این اے 204 اور 205 سے عباسی خاندان کے حاجی منور عباسی اور معظم عباسی پی پی پی کےٹکٹ کی بجائے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

پی پی پی کی انتخابی امیدوار فریال تالپور بلاول بھٹو زرداری کی پھوپی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام جنگ ٹکٹوں پر ہے۔ لیکن ‪ ڈاکٹر صفدر عباسی جو خود پی ایس 36 اور 38 سے برائے آزاد امیدوار پی پی پی کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں، سمجھتے ہیں کہ بات اس سے کہیں زیادہ بگڑی ہوئی ہے۔

انھوں نے بی بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں بتایا، ’پہلے لوگ تیر کے نشان کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے مرتے تھے، آج ٹکٹیں چھوڑ کے بھاگ رہے ہیں اور جن کو ٹکٹیں دی گئی ہیں آج اپنے حلقوں میں گھس نہیں پا رہے۔‘

ڈاکٹر صفدر کا خیال ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جماعت کو اس طرح نہیں چلایا گیا جس طرح چلانا چاہیے تھا اور اس وجہ سے پی پی پی کے بہت سے پرانے وفادار بددل ہو کر الگ ہو گئے۔ عباسی خاندان، جن کے پی پی پی کے قیام سے پہلے بھی بھٹو خاندان کے ساتھ گہرے مراسم تھے، آج ان میں سے ایک ہیں۔

ان کی شکایت تھی کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیق تک صحیح انداز میں نہیں کروائی گئی اور ابھی جماعت کی پرانی قیادت اس تذبذب کا شکار ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ سیاسی رشتے جوڑ لیے گئے ہیں جن کو بےنظیر خود اپنے قاتلوں میں شمار کر کے گئی تھیں۔‘

صفدر عباسی کا کہنا تھا، ’آج کی پیپلز پارٹی بھٹو کےنظریاتی فلسفے سے بہت دور ہو گئی ہے اور اس کا ثبوت پچھلے پانچ سال کی مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور قوم کی پریشان حالی کی صورت میں نظر آتا ہے۔

’سب سے بڑی بنیادی غلطی یہ ہوئی کے نئی قیادت نے خود کو ایوانوں میں بند کر لیا اور عوام سے کٹ گئے، کوئی اس وقت تک بھٹو نہیں بن سکتا جب تک وہ ثابت نہ کر دے کے وہ محترمہ کی کرسی کے قابل ہے، نام سے کچھ نہیں ہوتا۔‘

ان کے خیال میں اس کی وجہ سے نہ صرف پی پی پی کا ووٹ بینک ٹوٹا بلکہ پارٹی کے نسلی وفادار دور ہوتے چلے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پیپلز پارٹی لاڑکانہ اور نصیرآباد انتظامیہ کے سینئیر کارکنان جماعت چھوڑ کر عباسی خاندان کی انتخابی مہم میں شامل ہو چکے ہیں۔

لیکن ان تمام تبدیلیوں سے کیا پاکستان پیپلز پارٹی کے تاریخی لاڑکانہ ووٹ بینک میں واقعی کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟

ڈاکٹر عباسی پر اعتماد دکھائی دیے: ’جس پی پی پی امیدوار نے پچھلے انتخابات میں 80 ہزار ووٹ لیے تھے اس دفعہ 40 ہزار سے زیادہ نہیں لے پائے گا۔ ‘

انھوں نے کہا کہ عباسی خاندان کا بھٹو نام کے ساتھ 80 سال پرانا مسلسل تعلق رہا ہے اور اگر یہ خاندان اب مایوس ہو کر انتخابی میدان میں آج پی پی پی سے الگ تھلگ کھڑا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پورے ملک میں ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں لوگ جس بنیاد پر تیر کے نشان کو ووٹ دیتے تھے حکومت نے اپنی پانچ سال کی ناقص پالیسیوں سے وہ نظریاتی بنیاد ہی کھوکلی کر دی ہے۔

’اگر آج وہ پانچ سالوں کے بعد بےنظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی تصویریں لے کر آ گئے ہیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لوگ بےوقوف ہیں، وہ نہیں پوچھیں گے کہ پچھلے پانچ سالوں میں آپ نے کیا کیا؟‘

اسی بارے میں