کیماڑی انتخابی اجتماعات کا مرکز

Image caption دوہزار آٹھ کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی

کراچی میں صوبائی اسمبلی کا حلقہ نواسی اس وقت پورے شہر سے مختلف سیاسی منظر پیش کررہا ہے۔اگر ایک طرف پورے شہر میں انتخابی مہم کے حوالے سے خاموشی ہے تو دوسری طرف کیماڑی کا علاقہ سیاسی اور انتخابی اجتماعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اس حلقے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی دفاتر قائم ہوچکے ہیں کارنر میٹنگز کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے جلسے منعقد ہو رہے ہیں، ہرگزرتے دن کے ساتھ انتخابی مہم میں تیزی دیکھنے کو ملتی ہے۔

کیماڑی کا علاقہ قومی اسمبلی کے حلقہ دو سوانتالیس اور صوبائی اسمبلی کے حلقے نواسی پر مشتمل ہے۔ دوہزار آٹھ کے انتخابات میں ان دونوں نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوراروں نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن پیپلز پارٹی نے اس بار سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی اور وزیر ٹرانسپورٹ اختر حسین جدون کو ٹکٹ جاری نہیں کیا ہے ۔

صوبائی اسمبلی کی نشست پر اس باردیگر سیاسی جماعتیں بھی بھرپور اندار میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔اس علاقے میں ابھی تک متحدہ قومی مومنٹ کا انتخابی دفتر قائم نہیں ہوسکا ہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی جن کو براہ راست طالبان سے خوف ہے اس علاقے میں بھرپور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس کے ساتھ یہاں جمعیتِ علما اسلام ف، مسلم لیگ ن، اہلسنت والجماعت سمیت ایک درجن سے زائد سیاسی جماعتوں کے امیدوار ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں ۔

شام کے وقت مختلف سیاسی جماعتوں کے نوجوانوں کی جانب سے موٹر سائیکلوں پر ریلیاں نکالی جاتی ہیں ۔ ان جماعتوں کے ورکروں نے چندہ مہم کا بھی آغاز کردیا ہے ۔ تارا چند روڈ، مسان روڈ، حسین بخش روڈ ، کچھی میانہ مسجد روڈ پر انتخابی دفاتر رات دیر تک کھلے رہتے ہیں اور یہ دفاتر ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زمان چغرزئی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو طالبان سے دھمکیاں ملی ہیں لیکن اس کے باوجود انتخابی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں، انہیں امید ہے کہ وہ اس بار اس حلقے میں کامیابی حاصل کرلیں گے۔

زمان چغرزئی کے مطابق کیماڑی میں شدت پسند عناصر کا کوئی وجود نہیں۔ ان کے مطابق یہاں کے لوگوں کا سیاسی شعور پختہ ہے اور اسی وجہ سے پورے شہر میں جہاں انتخابی حوالے سے خاموشی ہے وہیں کیماڑی میں انتخابی مہم زوروں پر ہے۔

بیس سالہ نوجوان اختر خان کا کہنا ہے کہ وہ اس سیاسی ماحول سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہ تمام سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور کارنز میٹنگ میں شریک ہوتے ہیں لیکن ووٹ اپنی مرضی سے دیں گے۔

مقامی صحافی انور خان کا کہنا ہے کہ کیماڑ ی میں سیاسی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہے اور خصوصاً انتخابات کے حوالے سے یہاں کوئی کشیدگی نہیں۔ان کے مطابق یہاں کی زیادہ تر آبادی پشتونوں پر مشتمل ہے جو فاٹا اور سوات سے آپریشن کے بعد نہیں آئے بلکہ برسوں سے یہاں آباد ہیں۔

اسی بارے میں