’ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں‘

Image caption امریکی فوج کے ایک خفیہ آپریشن میں اسامہ بن لادن مارے گئے تھے

موصول کی جانے والی بعض ٹیلی فون کالز منحوس ثابت ہو سکتی ہیں اور ایسا ہی پندرہ مارچ سنہ 2011 کو پینتیس سالہ ممتاز بیگم کے ساتھ ہوا۔

اس وقت تو ایسا ہی لگا کہ کسی سپروائزر کی جانب سے ہیلتھ ورکر کو فون کیا گیا اور انہیں ویکسینیشن مہم شروع کرنے سے متعلق ایک اجلاس میں بلایا گیا۔

لیکن بعد میں یہ ٹیلی فون کال ممتاز بیگم سمیت دیگر 16 ہیلتھ ورکرز کو دنیا کے سب سے مطلوب شخص اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے بطور پیادہ استعمال کرنے کے حوالے سے ثابت ہوئی۔

اس وقت یہ حملوں کے خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہیں ان میں سے کئی کو غدار کہا گیا اور بعض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں دو مئی سنہ 2011 کو امریکی کمانڈوز کی ایک خفیہ کارروائی میں اسامہ بن لادن مارے گئے تھے۔

بعد میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے صوبائی محکمۂ صحت کے اہلکار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو حراست میں لے لیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے ان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کے لیے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جعلی مہم کی سربراہی کی تھی۔

فروری سنہ 2012 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمۂ صحت نے ان 17 ہیلتھ ورکز کو برطرف کر دیا جنہوں نے اس جعلی ویکسینیشن مہم میں حصہ لیا تھا۔

ممتاز بیگم ایبٹ آباد میں ایک دو کمروں کے ایک خستہ حال مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ مکان کی دیواروں پر پلستر نہیں اور ایک کمرے کا دروازہ بھی نہیں ہے۔

Image caption خواتین ہیلتھ ورکرز کو عدالتی حکم کے باوجود ابھی تک نوکریوں پر بحال نہیں کیا گیا

مکان کے دوسرے کمرے میں محکمۂ صحت کا ایک بڑے بینر دیوار پر آویزاں ہے اور اس میں خاندانی منصوبہ بندی اور صحت سے متعلق پیغامات درج ہیں جس سے اندازہ ہوتا کہ ان کے زندگی میں اس کام کا کتنا عمل دخل ہے۔

وہ تین بھائیوں اور تین بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور اپنے گھر کی واحد کفیل ہیں جبکہ باقی افراد بے روزگار ہیں۔

ان میں سے کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی ہے اور پاکستان میں یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں جہاں مالی مشکلات شادی کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں۔

شمشار بیگم نے سنہ 1996 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمۂ صحت میں ہیلتھ ورکر کے طور پر ملازمت شروع کی تھی اور اس وقت سے ان کے کاندھوں پر اپنے خاندان کی ذمہ داریاں ہیں۔

ملازمت کے دوران بھی شمشاد بیگم کے مالی وسائل اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ آنکھوں کی بیماری موتیا میں مبتلا اپنی نابینا والدہ اور مرگی کی بیماری میں مبتلا اپنی ایک بہن کا علاج کرا سکتیں۔

شمشاد بیگم نے آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ کہا ’اب میری نوکری ہی جا چکی ہے اور دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے‘۔

ایک دوسری ہیلتھ ورکر اختر بی بی کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔

انہوں نے ایک مقامی کہاوت بیان کرتے ہوئے کہا ’میں ایسی خاتون تھی جس میں سات مردوں جتنی توانائی تھی، لیکن اب میں حوفزدہ ہوں، اگر ٹھوکر لگتی ہے تو میں گر جاؤں گی۔‘

اختر بی بی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مہم کے دوران ڈاکٹر شکیل کے قریبی حلقے میں شامل تھیں اور ان دو خواتین میں سے ایک ہیں جو ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کے لیے اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئیں تھیں۔

Image caption یہ خواتین زندگی خوف کے سائے میں گزارنے پر مجبور ہیں

ان دونوں خواتین کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کیے جانے کے بعد ان سے بھی آئی ایس آئی نے پوچھ گچھ کی تھی۔

اختر بی بی نے دونوں دعوؤں سے انکار کیا تاہم یہ تسلیم کیا کہ انٹیلیجنس اہلکاروں نے ان سے ہیلتھ سینٹر، ان کے گھر اور ایک قریبی عزیز کے گھر پر ان سے تفتیش کی تھی۔

’میں ان دنوں ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ بن گئی تھی، صورت حال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب میرے خاوند نے مجھے یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا کہ میں بدنما داغ بن گئی ہوں اور اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہنا شروع کر دیا‘۔

اخیر بی بی ملازمت سے نکالے جانے کے بعد گزر بسر کرنے کے لیے گھروں میں کام کر کے یومیہ تقریباً سو روپے کماتی ہیں۔

ہیلتھ ورکرز نے کیا غلط کیا؟

اختر بی بی کے مطابق ’ڈاکٹر شکیل آفریدی ہمیں گھروں سے گھسیٹ کر نہیں لائے تھے اور ہم اپنے محکمے کی جانب سے ان کے لیے کام کرنے کے لیے گئیں تھیں‘۔

’سولہ مارچ سنہ 2011 کو ہونے والی میٹنگ میں، محکمے کے متعدد اعلیٰ اہلکار موجود تھے، جن میں ہمارے سپروائزر اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کوارڈینٹر بھی شامل تھے اور انہوں نے اس اجلاس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پروگرام کوارڈینٹر کے طور پر متعارف کروایا تھا‘۔

’ڈاکٹر شکیل آفریدی نے انہیں جامع بریفنگ دی، وہ چاہتے تھے کے 15 سے 49 سال تک کی عمر کی خواتین کو ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے حفاظی ٹیکے لگانے کی گھر گھر مہم شروع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کی توجہ ایبٹ آباد کے دو علاقوں نواشہر اور بلال ٹاؤن پر توجہ مرکوز ہو گی‘۔

اختر بی بی کے بقول 16 اور 17 مارچ کو 15 ہیلتھ ورکرز نے نواشہر سے مہم کا آغاز کیا، یہ وہی علاقہ تھا جہاں القاعدہ کے اہم رکن فراج اللیبی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

اس کے بعد اپریل کی 12 سے 14 اور 20 سے 21 تاریخ تک مزید دو بار چلائی گئی۔ان میں سے آخری مہم کی مکمل توجہ بلال ٹاؤن پر تھی جہاں پر اسامہ بن لادن کا ٹھکانہ واقع تھا۔

’نو خاتون ہیلتھ ورکر نے تین گروپوں میں بلال ٹاؤن میں دو دن مہم چلائی، اور ڈاکٹر شکیل نے اس مہم کی خود نگرانی کی، انہوں نے ہمارے لیے دو ویگنیں حاصل کی تھیں اور خود محکمۂ صحت کی ایک سرکاری گاڑی استعمال کر رہے تھے‘۔

میں ان دو خاتون ہیلتھ ورکرز میں شامل تھی جنہوں نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی موجودگی میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر دستک دی لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔

اختر بی بی کے بقول انہیں اس بات کا انداہ نہیں ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے آخر میں نمونے حاصل کر لیے تھے، لیکن ان کو اتنا یاد ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’اس مکان میں موجود افراد کو حفاظتی ٹیکے لگانا بہت ضروری ہیں‘۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کچھ خواتین کو ڈاکٹر شکیل کے عزائم کا اندازہ تھا، اس بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ آیا ڈاکٹر شکیل آفریدی کو خود اندازہ تھا کہ وہ کسے ڈھونڈ رہے ہیں یا صرف وہ ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔

گزشتہ سال عدالت میں دی جانے والی ایک درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ محکمۂ صحت کے اعلیٰٰ اہلکاروں نے خود کو اس معاملے سے بچانے کے لیے انہیں’قربانی کا بکرا‘ بنایا۔

گزشتہ ماہ عدالت نے انہیں بحال کرنے کا حکم دیا ہے تاہم محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے مطابق انہوں نے ابھی یہ طے نہیں کیا ہے کہ عدالتی حکم کے خلاف اپیل کی جائے یا اس پر عمل درآمد کیا جائے۔

ہو سکتا ہے کہ انہیں نوکری ملے یا نہ ملے، لیکن ایسا ممکن نہیں لگتا کہ وہ ایک لمبے عرصے تک بغیر کسی خوف کے زندگی بسر کر سکیں گی۔

میں نے کئی ہیلتھ ورکرز سے ملاقات کرنے کے لیے رابط کیا لیکن انہوں نے تصاویر لینے یا ٹیپ پر انٹرویو دینے سے انکار کر دیا۔

قابل ذکر احتیاطی تدابیر کے بعد اختر بی بی بات کرنا پر رضامند ہوئیں لیکن بعد میں انہوں نے اصرار کیا کہ انٹرویو کسی خفیہ مقام پر دیں گی اور ایسا ہی ہوا۔

’انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میری جان خطرے میں ہے، ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں، ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مہم سے پہلے وہ ہیلتھ ورکرز کو نہیں مارتے تھے۔‘