بینظیر بھٹو مقدمے میں مشرف سے تفتیش کی اجازت

Image caption سابق فوجی حکمران جب سے واپس پاکستان پہنچے ہیں انہیں مختلف عدالتوں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں باقاعدہ گرفتار کرنے اور اُن سے تفتیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ادھر سپریم کورٹ کے بینچ نے سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمے درج کرنے کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت جاری رکھی ہوئی ہے۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی ٹیم کے رکن خالد رسول کی جانب سے متعلقہ عدالت میں درخواست دی کہ سیکورٹی خدشات کی بنا پر ملزم پرویزمشرف کی گرفتاری اُن کے فارم ہاؤس میں ہی ڈالی جائے گی جسے اسلام آباد کی انتظامیہ نے سب جیل قرار دے چکی ہے۔

پرویز مشرف اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں اپنے فارم ہاؤس میں مقید ہیں۔ اس کے علاوہ درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بینظر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کا جسمانی ریمانڈ بھی درکار ہے۔

بینظیر بھٹو کے مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق آرمی چیف کو چھبیس اپریل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائےگا جہاں پر متعقلہ عدالت سے’ جسمانی ریمانڈ‘ لینے کی استدعا کی جائے گی۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سات افراد کو حراست میں لیاگیا تھا جن میں سے پانچ ملزمان گُزشتہ پانچ سال سے اڈیالہ جیل میں ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود سمیت چھ افراد کو اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل ابراہیم ستی نے کہا ہے کہ 31 جولائی 2009 کے عدالتی فیصلے میں یہ کہیں بھی نہیں کہا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے کا مقدمہ درج کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے میں صرف اتنا کہا گیا تھا کہ سابق صدر نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی، اور یہ کہ اس طرح کے اقدامات سنگین غداری کے زمرے میں آتے ہیں تاہم اس فیصلے میں وفاقی حکومت کو یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ وہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرے۔

ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کو سُنے بغیر تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات کے بارے میں اکتیس جولائی سنہ دوہزار نو میں فیصلہ دیا گیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

سابق فوجی صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اکتیس جولائی سنہ دو ہزار نو کا فیصلہ سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ نے کیا تھا جس میں تمام حقائق کو مدنظر نہیں رکھاگیا تھا اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بڑا بینچ تشکیل دیا جائے جس کی سربراہی چیف جسٹس کے علاوہ کوئی دوسرا جج کرے۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت اُن کے موکل کے خلاف مقدمہ درج کرنے یا اُنہیں خصوصی عدالت قائم کرنے سے متعلق کوئی ہدایات جاری نہیں کرسکتی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے میں استغاثہ نہیں ہے اور عدالت تو صرف یہ جاننا چاہتی ہے کہ اُنہوں نے اکتیس جولائی کے فیصلے پر کیا عمل درآمد کیا ہے۔

ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو تو ایسی درخواستیں سُننے کا اختیار بھی نہیں ہے۔ بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے پرویز مشرف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ وفاق اور پرویز مشرف کے درمیان چھوڑ دیا جائے اور عدالت اس میں مداخلت نہ کرے۔

یاد رہے کہ وفاقی نگراں حکومت پہلے ہی سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا چکی ہے کہ سابق فوجی صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کی مجاز نہیں ہے۔

جسسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ ججز نے اپنے لیے بھی ضابطہ اخلاق بنایا ہوا ہے کہ وہ کسی بھی آمر کے غیر آئینی اقدامات کو کسی صورت میں بھی آئینی تحفظ نہیں دیں گے اور نہ ہی پارلیمنٹ ججز اور جرنیل کے کسی بھی غیر آئینی اقدامات کی توثیق کرے گی۔

پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر کسی مرحلے پر اُن کے موکل کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے تو اُنہیں خطرہ ہے کہ وہ خصوصی عدالت سپریم کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے جانے والے ریمارکس سے اثر انداز ہوگی۔ ان درخواستوں کی سماعت اُنتیس اپریل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں