جھنڈا کسی اور کا، ووٹ کسی اور کا۔۔

Image caption ’مرد تو گھر بیٹھ گئے ہیں، اب خواتین ہی مہم چلا رہی ہیں‘

ضلع چارسدہ کی تحصیل ماما خیل میں عوامی نیشنل پارٹی کی خواتین اہلکاروں کی ایک گھر میں کارنر میٹنگ چل رہی تھی۔ سٹیج پر لال رنگ کا قالین بچھا ہوا تھا اور میٹنگ میں شرکت کرنے والی بعض خواتین نے اپنی جماعت کے رنگ کی نمائش لباس، ٹوپی اور لپسٹک کی شکل میں کی ہوئی تھی۔ لیکن سٹیج خالی رہا کیونکہ تیز ہواؤں کے ساتھ بارش برسی مگر خواتین ڈٹی رہیں۔

بارش کے باوجود چائے اور سموسے بٹ رہے تھے اور برآمدے کے نیچے اے این پی کی اہلکاروں نے شعر و شاعری سے لیس تقریرں کیں۔

گیٹ کے باہر تنگ گلیوں میں سکیورٹی سخت تھی۔ شلوار قمیض پہنے اور بندوق پکڑے ایک محافظ کی تصویر میں نے کھینچی تو انہوں نے مجھے الگ بلا لیا۔ میں سمجھی کہ وہ مجھ سے میرا کیمرا چھیننے لگے ہیں مگر وہ مجھ سے، یا یوں کہیے، میرے پیشے سے زیادہ خوف زدہ تھے۔’دیکھیں، میں پولیس افسر ہوں۔ الیکشن کمشن نے مجھے شلوار قمیض پہننے کو کہا ہے۔ یہ اسلحے کی نمائیش نہیں ہے۔‘

ویسے تو ایسی میٹنگز انتخابات میں عام ہوتی ہیں تاہم چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے لیے یہ خواتین کارکن اور یہ ملاقاتیں پارٹی کے اہلکاروں کے خلاف حملوں اور تشدد کے مدِِ نظر اور بھی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ چارسدہ میں پارٹی کی مہم پر کام کرنے والے کارکن پر مسلسل حملوں کے بعد ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ’مرد تو گھر بیٹھ گئے ہیں، اب خواتین ہی مہم چلا رہی ہیں۔‘

پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی ایک اہلکار جمیلہ گیلانی نے کہا ’ہمارے پاس باقی پارٹیز کی طرح ٹی وی پر اشتہارات چلانے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ ہم بڑے جلسے نہیں کر سکتے لیکن ہم واحد پارٹی ہیں جنہوں نے طالبان اور شدت پسندی کے خلاف نام لے کر مذمت کی ہے۔‘

چارسدہ کے دو بڑے رہنماؤں اے این پی کے اسفندیار ولی خان اور قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپاؤ پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔ کسی جماعت نے یہاں انتخابی سیزن میں نہ بڑا جلسہ کیا اور نہ ہی جلوس نکالا ہے۔ یہاں لوگوں کو سب سے بڑی شکایت تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سابق رکنِ قومی اسمبلی اور موجودہ انتخابات کے امید وار کو دیکھا تک نہیں ہے۔

چارسدہ کے مرکزی بازار میں گڈکا اور سپاری بیچنے والے ایک عمر رسیدہ شخص نے مجھے بتایا کہ ان کے دادا بھی عوامی نیشنل پارٹی کو ووٹ دیتے تھے لیکن اس بار نہیں۔ میں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ کس کو ووٹ دے رہے ہیں تو وہ شرماگئے۔ بار بار پوچھنے کے بعد جب بازار میں بھیڑ جمع ہو گئی تو وہ ہکلاتے ہوئے بولے ’مولانا فضل رحمان کو‘۔

انتخابات کی روائتی گہما گہمی کی عدم موجودگی کے باوجود چارسدہ شہر کا مرکزی بازار مختلف جماعتوں کے جھنڈوں سے دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔ مقامی صحافی سبز علی نے بتایا کہ اس بار چونکہ پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی بھی یہاں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں تو نتائج کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

اس غیر واضح صورتِ حال کی حقیقت جاننے کے لیے چارسدہ کے بازار میں ایک دکان دار سے میں نے جب پوچھا کہ آپ اسی جماعت کو ووٹ دیں گے جس کا جھنڈا ان کی دکان پر لہرا رہا تھا تو انہوں نے کہا نہیں جھنڈا کسی اور کا، ووٹ کسی اور کو۔

اسی بارے میں