میانوالی میں’تبدیلی‘ کے نعرے کی گونج

Image caption میانوالی میں اس مرتبہ مقابلہ خاصا سخت اور دلچسپ رہے گا

ضلع چکوال سے 145 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر جب میانوالی شہر پہنچی تو عمران خان کے تبدیلی کے نعرے کی گونج خاصی محسوس ہوئی۔ ظاہر ہے یہ تو ان کا اپنا حلقہ ہے۔

جگہ جگہ دیواروں پر ان کے پوسٹرز تو کہیں رکشے کے پیچھے عمران خان کی تصویر چسپاں ہیں۔ جیسے جیسے شہرکی طرف بڑھتے گئے ویسے ویسے ہی پولیس کی تیاریاں دکھائی دیں۔

کہیں روکاٹیں لگائی جا رہی تھیں تو کہیں لگ چکی تھیں لیکن یہ تیاریاں ہمارا تحفظ کرنے کے لیے نہیں بلکہ شہر میں آئے سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب شہاز شریف کے لیے تھیں۔

مسلم لیگ ن نے اپنی انتخابی مہم میں میانوالی کو اہم شہروں کی فہرست میں اوپر رکھا ہے۔ ضلع میانوالی میں بھی سیاسی جماعتوں کی یا نظریے کی سیاست نہیں بلکہ شخصی سیاست ہوتی آئی ہے جس میں زیادہ تر منتحب ہونے والے آزاد امیدوار کا جھکاؤ مسلم لیگ ن کی طرف رہا۔

یہاں کی مذہبی تحریکوں نے بھی مسلم لیگ ن کی ہیشہ حمایت کی مگر مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ یہاں کی مذہبی تحریکوں اور سیاسی خاندانوں کی بھی حمایت تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ بڑے سیاسی خاندان روکڑی اور شادی خیل مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے ہیں تو خان اور نواب آف کالا باغ پی ٹی آئی کے شانہ بشانہ ہیں۔

میانوالی شہر میں مسلم لیگ ن کے جلسے میں ڈھائی سے تین ہزار افراد پر شامل تھے اور خوب ’سونامی خان مردہ باد‘ کے نعرے لگے۔ این اے 71 کے حلقے سے عمران خان کے مدِمقابل مسلم لیگ ن کے عبداللہ خان شادی خیل انتحابات میں کھڑے ہو رہے ہیں۔

لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی تقریر میں شہباز شریف کو بتایا کہ وہ کتنی مشکل سیٹ کے لیے لڑ رہے ہیں جس پر ان کا مقابلہ پی ٹی اے کے سربراہ سے ہے مگر وہ پر امید ہیں کہ مسلم لیگ ن کے لیے وہ سیٹ جیت کر دکھائیں گے۔ اب اس کا فیصلہ تو 11 مئی کو ہی ہو گا۔

Image caption میانوالی شہر میں مسلم لیگ ن کے جلسے میں ڈھائی سے تین ہزار افراد پر شامل تھے

شہباز شریف میدان میں اترے تو انہوں نے میانوالی پر کی گئی اپنی مہربانیاں گنوانا شروع کیں تو ساتھ ہی عوام کو اس سے بھی آگاہ کیا کہ ’صدر آصف علی زرداری اور عمران خان مل کر پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مل کر حکومت بنا لیں اور مزید لوٹ مار کریں۔‘

جوشیلی تقریر کے دوران کئی بار شہاز شریف کا چشمہ ڈائس پر جا گرا مگر ان کا جوش بڑھتا ہی گیا۔ بعض من چلے جلسے میں پی ٹی آئی کا نعرہ لگاتے تو فوراً مسلم لیگ کے انتحابی مہم کے خصوصی گانے بجنا شروع ہو جاتے۔

جلسہ ختم ہوتے ہی جب شہباز شریف اپنے درجن سے زیادہ محفاظوں کے ساتھ جیسے ہی باہر نکلے تو عوام رکاوٹیں توڑ کر سٹیج کی جانب دوڑی۔ جلسے میں ایک خاتون کی موجودگی ویسے ہی بڑی نمایاں تھی اور جب اتنے بڑے ہجوم کو اپنی طرف آتے دیکھا تو عافیت اسی میں جانی کہ فوراً یہاں سے نکلا جائے۔

اگلی منزل میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں واقع کالا باغ تھی۔

خوبصورت پہاڑوں اور دریائے سندھ کے نظارے کرتے ہوئے جب ہم جناح بیراج پہنچے تو پولیس نے کہا کہ یہ پل تو گاڑیوں کے لیے خاصے عرصے سے اپنی خستہ حالی کی وجہ سے بند ہے۔

راستہ تبدیل کر کے ہم نواب آف کالا باغ کے تاریخی بوڈھ بنگلے پر پہنچے۔ انتظار تھا فاروق لغاری کی جماعت عوامی ملت پارٹی کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے رہنے والی عائلہ ملک کا جو عمران خان کے لیے نہ صرف میانوانی میں انتحابی مہم چلانے میں مصروف ہیں بلکہ خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے بھی پی ٹی آئی کی طرف سے نامزد ہیں۔

ان کے ہمراہ ہم مختلف دیہاتوں میں گئے جہاں پہلے عائلہ مردوں کے لیے تقریر کرتیں اور پھر پردے میں موجود خواتین کے پاس جاتیں۔ فوراً ہی ایک مائیک اور ایک چھوٹا سا لاؤڈ سپیکر نصب ہو جاتا اور عائلہ تقریر شروع کر دیتیں۔

Image caption عائلہ نے دن میں چھ مرتبہ مختلف مقامات پر کی لیکن ایک لفظ بھی ادھر سے ادھر نہ ہوا

ان کا مخاطب وہ خواتین تھیں جو گھر سے باہر تب ہی نکلتی ہیں جب ان کے بچے بیمار ہوتے ہیں۔ 20 منٹ کی یہ تقریر عائلہ نے دن میں چھ مرتبہ مختلف مقامات پر کی لیکن ایک لفظ بھی ادھر سے ادھر نہ ہوا۔

بنیادی سہولیات سے محروم خواتین کے چہروں پر عائلہ کی بات سن کر خوشی کی لہر دوڑتی دکھائی دی۔ وہ عائلہ کی باتوں میں اپنے بہتر مستقبل کے خواب دیکھ کر جوشیلی ہوتیں اور عمران خان کے انتخابی نشان بلے کو ہوا میں لہراتیں۔

عائلہ ملک نے جب واپسی کا ارادہ کیا تو تمام خواتین ان سےگلے ملنے آگے بڑھیں لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکیں اور عائلہ بڑی خوبصورتی سے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں دلاسہ دے کر چل دیں۔

میانوالی کے دیہی علاقوں کی خواتین پر عائلہ ملک خاصی توجہ دے رہی ہیں اور لوگ تبدیلی کے نعرے کے اثر میں دکھائی دیتے ہیں۔ میانوالی کی سیاست کسی حد تک بظاہر عمران خان کی جانب مائل ہو رہی ہے۔ وہ 2002 کے انتخابات میں یہاں سے ایم این اے بھی منتحب ہو چکے ہیں۔

لیکن مسلم لیگ ن نے بھی دو قومی اور چار صوبائی نشستوں کے لیے ایسے بااثر خاندان مقابلے میں لا کھڑے کیے ہیں کہ میانوالی میں اس مرتبہ مقابلہ خاصا سخت اور دلچسپ رہے گا۔

میانوالی سے بھکر کے راستے پر نکل پڑی ہوں اور جیسے جیسے بھکر قریب آتا جا رہا ہے، ویسے ویسے ہی پی ٹی آئی کا عنصر بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں