چولستان کا ووٹر کیا سوچ رہا ہے؟

Image caption انتخابی مہم کے رنگ بالائی پنجاب کے گنجان آباد صنعتی شہروں سے نکلنے کے بعد، چولستان تک ماند پڑ جاتے ہیں

’سائیں میرے پاس تو ایک ہی چارپائی ہے، وہ لا سکتا ہوں‘۔ ریاض ملنگ، جنہوں نے نام کے ساتھ فخر سے بتایا ’ذات کا کھوکھر ہوں‘ کا چہرہ ہکا بکا اور پرتجسس تھا۔

میلے کچیلے، پھٹے ہوئے کپڑے پہنے، کالی لمبی مگر باریک مونچھوں والے چولستانی ریاض اور اُن کے ہمسائے جھونپڑیوں کے ساتھ ریت کے ٹیلوں پر اچانک دو چمکتی گاڑیاں آ کر رکیں۔

چند ایک جوان اترے اور تیزی میں تاریں بچھانے لگے، ڈبے کھول کر کوئی لیپ ٹاپ رکھنے کی تیاریوں میں ہے تو کوئی چھوٹی سی ڈش اُٹھائے سگنل کی تلاش میں گھومے جا رہا ہے۔

اِن میں سے ایک سرخ شرٹ، کالی جینز، پیلے جوتے اور موٹی عینک پہنے ہوئے ریاض ملنگ کی طرف بڑھ آیا اور بغیر کسی شرم یا جھجک کے اُس غریب سے دو چارپائیاں مانگ ڈالیں۔

تھوڑی دیر بعد ریاض اپنی جھونپڑی سے واحد چارپائی، بستر اور تکیے سمیت لے آیا۔ عینک والے نے کہا ’بستر کی ضرورت نہیں تھی‘۔

جواب ملا، ’سائیں قالین لے آؤں‘۔

اپنی چادر ریت پر ہی بچھا کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر میں جھونپڑیوں سے اُس کے ہمسائے اور درجن بھر بچے بھی آن پہنچے۔ اُنہیں ’تھوڑا اور پیچھے‘ ہٹ کر بیٹھنے کا کہہ دیا گیا۔

پھر ریاض ملنگ جیسی چولستانی خدوخال کے چار افراد آئے تو جینز والوں نے بڑھ بڑھ کر سلام کیے۔

ریاض ملنگ کے ساتھیوں میں سے نہ جانے کب کون جا کر دوسری چارپائی لے آیا، جینز والوں کو پتہ ہی نہیں چلا۔

تاریں بچھ گئیں، سگنل مل گئے، گاڑیاں ایک سو تین روپے فی لیٹر کے پیٹرول پر اگلے دو گھنٹے سٹارٹ رہیں، لیپ ٹاپ چلتے رہے، گاڑیوں کی لائٹیں، جھونپڑیوں والوں کی چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے چھ لوگوں پر پڑتی رہیں، چولستان کے مسائل اور سیاست کے بارے میں سوال و جواب ہوئے۔ انتخابی مہم کا خاص ذکر نہ ہو سکا۔

بنجر ٹیلوں کے بیچ انتخابی مہم کا رنگ آئے کیسے؟ یہاں بِل بورڈ ہیں نہ کھمبے۔ پکی چار دیواریاں ہیں نہ مارکیٹیں۔ پوسٹر کہاں چپکائے جائیں؟ جھنڈے کہاں گاڑے جائیں؟ بینر کہاں لٹکائے جائیں؟

انتخابی مہم کے رنگ بالائی پنجاب کے گنجان آباد صنعتی شہروں سے نکلنے کے بعد، چولستان تک ماند پڑ جاتے ہیں۔ درمیان میں سینکڑوں کلو میٹر کے جنوبی پنجاب کے زرعی علاقے، اُن کے گرد آباد قصبے اور تحصیلیں اِس قدر وسیع ہیں کہ پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے مقررہ سائز کے پوسٹر اور بینر، توجہ ہی نہیں کھینچ پاتے۔

یہاں تک کہ ضلع رحیم یار خان میں سفر کرتے ہوئے جینز والوں نے جب اپنے ڈرائیور زاہد سے پوچھا کہ سڑک کے کنارے بکھری دکانوں کی چھتوں پر لگے ہوئے سیاہ سفید لکیروں کے جھنڈوں کے لیے امیدوار کون ہے؟

جواب کیا ملنا تھا، زاہد بھی حیرت سے کہنے لگا ’سر یہ تو آپ نے پوچھا ہے تو مجھے نظر آنے لگے ہیں۔ میں اِسی علاقے کا رہائشی ہوں، پہلے کبھی نہیں ہوتے تھے یہ جھنڈے۔ اِس دفعہ پتہ نہیں کِس نے لگائے ہیں کیونکہ میں پہلے کی طرح امیدواروں کے ساتھ گاڑی کرائے پر نہیں لے کر گیا‘۔ ’وہ کیوں‘؟

’کیونکہ پچھلے انتخابات کے دوران میں جس امیدوار کے ساتھ تھا، وہ پنجابی ہے۔ اُس کے سیکرٹری نے سرائیکیوں کے بارے میں غلط باتیں کی تھیں۔ میں سرائیکی ہوں، اس لیے لڑ کر آ گیا اور پھر ارادہ کر لیا کہ انتخابات کے لیے نہیں جانا۔ آپ میڈیا والے ہیں، اِس لیے آپ کے ساتھ آ گیا ہوں‘۔

میڈیا کا جینز والا یہ گروہ، چلتے رکتے، سارا دن، جسے ملتا رہا، سرائیکی پنجابی، ہندو مسلم، انتخابی مہم، لشکرِ جھنگوی کے بانی ملک اسحاق اورگورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے ضلعے رحیم یار خان کے بارے میں سوالات ہی کرتا رہا۔ کئی سوالات رات کے اندھیرے میں چولستان کے ٹیلوں میں بھی دوہرائے گئے۔

ایک شریکِ محفل نوجوان بیجل داس کے مطابق ’یہ تو پیری مریدی والے علاقے ہیں، جس کے لیے پیر نے کہہ دیا، لوگ اُسے ووٹ ڈال دیتے ہیں‘۔

کس پیر کا پیغام آیا تھا؟

یہ پوچھنے کے لیے دن بھر چولستان میں پھرنے والے، جینز والوں کے پاس اُن دو گاڑیوں کے قافلے کو بھی فرصت نہیں تھی جنہوں نے ریاض ملنگ کی جھونپڑی کے قریب، خستہ حال سڑک بڑی احتیاط سے کراس کی۔ پورے دن میں صرف یہی دو گاڑیاں علاقے میں نظر آئیں جن پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سٹکر لگے ہوئے تھے۔

سوال و جواب کا دن، ٹیلوں سے نصف سیربین کی کامیاب براہِ راست نشریات پر ختم کرتے ہی جینز والے ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ کسی کو خبر تک نہ ہوئی کہ ریاض ملنگ اپنی چارپائی، چادر اور تکیے سمیت لوٹ گیا ہے۔

جھونپڑیوں والے جا چکے تھے جنہیں ایلین شو نے معمول سے زیادہ دیر تک جگائے رکھا۔ البتہ ان کا ایک ساتھی کچھ فاصلے پر کھڑا مزید دیر تک گھورتا رہا۔

دوسری چارپائی پر میڈیا والوں کا سامان پڑا تھا اور اُن کے تجزیے ختم ہی نہیں ہو رہے تھے۔ بالآخر، آخری شخص آگے بڑھا اور عینک والے سے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا ’سر یہ چارپائی لے جاؤں‘؟ جواب ملا ’بس دو منٹ اور‘۔ التجا آئی ’سر بچے نے سونا ہے۔ نابینا ہے‘۔

ریاض ملنگ اور دوسری چارپائی لانے والے نامعلوم جھونپڑی والے کی مہمان نوازی کے باعث، لاکھوں سامعین کو سیربین سنا کر، بی بی سی کی ٹیم کی دونوں گاڑیاں روانہ ہو گئیں۔

محفل سے پہلے، مقامی لوک موسیقار موہن بھگت نے کہا ’جب انتخابات آتے ہیں تو سیاستدان بازار چمکائے آ جاتے ہیں۔ آج کل سیاستدانوں کی مارکیٹ بہت چمک رہی ہے۔ پینے کا پانی تک نہیں یہاں۔ انسان اور مویشی ایک ہی ٹوبے (تالاب) سے پانی پیتے ہیں‘۔

جاتے جاتے ایک شریکِ محفل چولستانی ماسٹر عامر نے گھاس نما چیز سے بھرا لفافہ عینک والے کو تھما دیا۔ ’سر یہ یہاں کی سوغات پھگوسی ہے۔ پھوگ کے پھول سے بنتی ہے۔ پھوگ کا پودا چولستان میں ہوتا ہے اور اونٹ کھاتے ہیں‘۔ پکانے کی ترکیب بھی سمجھا دی۔

موہن بھگت کے بقول چولستان کے اکثر لوگ عقیدت میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ بی بی سے عقیدت رکھتے ہیں۔ ’وہ روح کے عقیدت مند ہیں‘۔

اسی بارے میں