’مصروف ہوتے ہیں، ووٹ نہیں ڈال سکتے‘

Image caption پاکستان میں ایسے بہت سے شعبے ہیں جن کے کام کی نوعیت، ملازمین کو ووٹ سے محروم رکھتی ہے

پاکستان میں پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے سنگم پر ڈیرہ موڑ، ایسا مقام ہے جسے ڈرائیوروں کی فوڈ سٹریٹ کہنا غلط نہیں ہو گا۔ اگرچہ سٹریٹ یا گلی بہت چھوٹا لفظ ہے کیونکہ ڈیرہ موڑ انڈس ہائی وے پر واقع ہے لیکن اِس مقام پر ہوٹل کے بعد ہوٹل، فوڈ سٹریٹ کا نظارہ دیتے ہیں۔

ضلع کشمور کے اِن کشادہ ہوٹلوں پر، میز کرسیوں کی بجائے قالین اور گاؤ تکیے لگے ہوتے ہیں جن پر مسافر جتنی دیر چاہیں، آرام کر سکتے ہیں۔ چربی میں پکا ہوا نمکین گوشت اور تیز پتی والی چائے بھوک اور تھکاوٹ کو بھگا دیتے ہیں۔ مسافروں کے وقت کو قیمتی سمجھتے ہوئے جھٹ پٹ سروس کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ہائی وے پر ’کوئٹہ‘ اور ’مشترکہ‘ لاحقے کے اِن ہوٹلوں کے اصل گاہک کئی کئی دن تک لگاتار ٹرک اور ٹرالر چلانے والے ڈرائیور ہوتے ہیں۔ ہوٹل پہنچ کر نہانا، نماز پڑھنا، لیٹے رہنا، کھانا کھانا اور بعد میں خِلال منہ میں رکھ کر گاؤ تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے خالی سمت میں گھورتے رہنا، اِن ڈرائیوروں کی مصروفیات ہوتی ہیں۔

باڑی موڑ کے ایسے ہی ایک ہوٹل پر کوئٹہ کے محمد انور سے ملاقات ہوئی جو لاہور سے مال لے کر واپس کوئٹہ جا رہے تھے۔ اپنے نقش و نگار والے ٹرک کو پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔

محمد انور مصروفیت کے باعث زندگی میں کبھی ووٹ نہیں ڈال سکے۔ ’مسافر ہیں،گاڑی ہے، آج اِدھر ہیں تو کل لاہور ہوں گے۔ مصروف ہوتے ہیں۔‘

اُنہوں نے بتایا کہ آج کل کہیں نہ کہیں ہائی وے پر کوئی انتخابی جلوس نظر آ جاتا ہے لیکن آبادیوں کے اندر کے حال کی کوئی خبر نہیں۔ ’ہر شہر کے بائی پاس بنے ہوئے ہیں۔ ادھر سے گزر جاتے ہیں۔ شہر کے اندر کے ماحول کا پتہ نہیں چلتا۔‘

ووٹ کیوں نہیں ڈالتے کا سوال دوبارہ ہونے پر کہنے لگے ’کراچی میں ہوں گے، وہاں ڈال دیں گے‘۔

اس سوال پر کہ شناختی کارڈ کوئٹہ کا ہے، کراچی میں کیسے ووٹ ڈالیں گے؟ سادہ سا جواب ملا کہ ’ہم نہیں ڈالیں گے تو کوئی دوست ڈال دیں گے۔‘

Image caption کتنے پولیس اہلکاروں کو فرصت ملی ہو گی کہ وہ پوسٹل بیلٹ کی درخواستیں جمع کرانے نکل پڑیں؟

پاکستان میں ایسے بہت سے شعبے ہیں جن کے کام کی نوعیت، ملازمین کو ووٹ سے محروم رکھتی ہے۔

مثلاً میڈیا کو ہی لیجیے۔ سب سے پہلے نتائج حاصل کرنے کی دوڑ میں، سینکڑوں صحافی گیارہ مئی کو یہ گنتی کر رہے ہوں گے کہ کس پولنگ سٹیشن کے باہر کتنے پاکستانی اپنا قومی فرض نبھا رہے ہیں لیکن پیشے کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بہت سے صحافیوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع ہی نہیں ملےگا۔

الیکشن کمیشن نے حکومت سے گیارہ مئی کو عام تعطیل کی درخواست کی ہے لیکن اُن نجی کمپنیوں کو، ملازمین کو ’ووٹ کی فرصت‘ دینے پر کون قائل کرے گا جو عیدین اور محرم جیسے مخصوص دنوں کو ہی عام تعطیل قرار دیتی ہیں؟

اگرچہ اِس مرتبہ مستقل پتے کے ساتھ ساتھ عارضی پتے پر بھی ووٹ رجسٹر کرانے کی سہولت دی گئی لیکن کتنے ووٹر مقررہ تاریخ تک یہ سہولت حاصل کرنے کی فرصت نکال سکے؟

ذاتی طور پر اپنے ہی پتے کی حدود میں پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ ڈالنے کے علاوہ، پاکستان میں اِس کا واحد طریقہ پوسٹل بیلٹ ہے جو سرکاری ملازمین، قیدیوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں تک محدود ہے۔

جنوبی پنجاب میں رجسٹرڈ مگر گلگت بلتستان میں تعینات، ایک میجر ووٹر سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ چھاؤنی کے لگ بھگ پچیس افسران نے ہی پوسٹل بیلٹ میں دلچسپی ظاہر کی۔

ملک میں دہشتگردی اور لاقانونیت دلدل میں پھنسے ہوئے کتنے پولیس اہلکاروں کو فرصت ملی ہو گی کہ وہ پوسٹل بیلٹ کی درخواستیں جمع کرانے نکل پڑیں؟ موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو ملک بھر کے پولیس اہلکار، گیارہ مئی کو پولنگ سٹیشنوں پر ہی تعینات ہوں گے۔ ضروری نہیں کہ سب کی ڈیوٹی، اُن کے اپنے ووٹ والے پولنگ سٹیشن پر لگے۔

Image caption ضعیف العمر ووٹروں کو اس بار پولنگ سٹیشنوں تک کون لے کر جائے گا؟

صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد کے رہائشی سڑسٹھ سالہ خان چند کا بھی ارادہ ہے کہ اِس مرتبہ وہ ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ ضعیف العمری کے باعث چلنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ اُن کی طرح ریٹائرمنٹ کی عمر کے ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے۔

ضعیف العمر ووٹر تو بعد کی بات، پاکستان میں معذور لوگوں کو بھی ووٹ ڈالنے کی الگ سہولت موجود نہیں۔

روایتی طور پر نیم شہری علاقوں کے امیدواران دوردراز دیہات کے ووٹروں کو پولنگ کے لیے بسوں میں بھر کر لاتے تھے۔ دیہاتی ووٹر مفت میں شہر کی سیر کر لیتے تھے اور امیدوار کے ووٹ پکے ہو جاتے تھے اور ملک میں جمہوریت پسند آبادی کے اعداد و شمار بھی بڑھ جاتے تھے۔

تاہم اِس مرتبہ ووٹروں کو بسوں میں لاد کر لانے پر پابندی ہے۔

اُن ووٹروں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے، جنہوں نے ہر الیکشن میں ووٹ ڈالا، لیکن اب سیاستدانوں کی کارکردگی سے ناراض ہو کر گھر پر ہی بیٹھنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

اگرچہ دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ میں اضافے کی کوششیں اور پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں لیکن کیا ڈرائیور محمد انور کو شمار کیا جا رہا ہے؟

ڈیرہ موڑ کے اِسی ہوٹل میں، محمد انور کے بعد، ایک اور ڈرائیور سے انتخابات کے بارے میں اُن کے ارادے جاننے کی کوشش کی تو وہ مُنہ سے ٹوتھ پِک نکالے بغیر بولے ’بھائی چلے جاؤ، ہم مصروف ہیں۔‘

اُنہیں خالی سمت میں گھورتا چھوڑ کر مزید کسی ڈرائیور کے آرام میں دخل اندازی کرنا مناسب نہیں لگا۔

اسی بارے میں