الیکشن سے قبل پرتشدد واقعات جاری، مزید دس ہلاک

Image caption پاکستان میں عام انتخابات سے قبل شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان میں عام انتخابات کے سلسلے میں جاری سیاسی سرگرمیوں کو شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اتوار کو بھی صوبہ خیبر پختونخوا میں کوہاٹ، پشاور، صوابی کے مضافات میں جبکہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انتخابی دفاتر، کارنر میٹنگز کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان دو دھماکوں میں کم از کم دس افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے رفیق آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کے حلقہ پی کے 32 سے امیدوار امیرالرحمان کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں ایک بچہ ہلاک اور سات افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے میں امیرالرحمان محفوظ رہے۔

پی ٹی وی نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اے این پی کے امیدوار کارنر میٹنگ سے نکل رہے تھے کہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ایک بم دھماکہ کیا گیا۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے فیض آباد میں ایک آزاد امیدوار شمس مینگل کی کارنر میٹنگ کے قریب بم دھماکے میں بھی ایک بچہ ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دیسی ساختہ بم ایک سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے اتوار کو کوہاٹ کی مقامی پولیس کے مطابق وہاں دھماکے کا نشانہ اورکزئی ایجنسی کے حلقہ این اے 39 سے آزاد امیدوار سید نور اکبر کا انتخابی دفتر بنا۔

Image caption صوبہ خیبر پختونخوا میں انتخابی مہم کے آغاز کے بعد سے امیدواروں کے قافلوں، جلسوں اور دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے

ہنگو روڈ پر کچا پکا کے مقام پر ہونے والے اس دھماکے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق دھماکے کے وقت نوراکبر دفتر میں موجود تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔

مقامی پولیس کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کیا گیا اور اس میں 5 کلو سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے کے بعد امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

پشاور میں چارسدہ روڈ پر مقصود آباد کے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سے حلقہ این اے 46 سے امیدوار حاجی ناصر خان آفریدی کا دفتر متاثر ہوا۔

پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد دفتر کی دیوار کے ساتھ نصب کیا گیا تھا اور اس دھماکے سے دفتر کی عمارت کے علاوہ وہاں کھڑی گاڑیاں اور آس پاس کی دکانیں بھی متاثر ہوئیں۔

اس دھماکے میں 3 افراد کی ہلاکت اور دس کے زخمی ہوئے جنہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے پیغام میں کوہاٹ اور پشاور کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں انتخابی مہم کے آغاز کے بعد سے امیدواروں کے قافلوں، جلسوں اور دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے کے قریب دھماکے میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 31 مارچ کو بنوں میں اے این پی کے سابق رکنِ اسمبلی عدنان وزیر کے انتخابی قافلے پر بم حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شدت پسندی کے واقعات میں گزشتہ چند روز سے اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں