جئے سندھ متحدہ محاذ نے الگ انداز اختیار کیا

سندھ میں علیحدگی کی تحریک تو انیس سو ستّر سے جاری ہے لیکن اس میں مزاحمتی رنگ 2000 سے چڑھا جبکہ جئے سندھ متحدہ محاذ کا دوسرا جنم ہوا ہے۔

نومبر 2000 کی سرد شام کو شفیع محمد برفت کی قیادت میں دو درجن افراد نے جئے سندھ متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کے آئین میں وہ تمام نکات شامل ہیں جو جئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے رکھے تھے لیکن ایک نکتے کا اضافہ کیا گیا وہ تھا مزاحمت یا عسکریت پسندی۔

دادو کے علاقے میں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن، حیدرآباد، کوٹڑی اور جامشورو سمیت مختلف علاقوں میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکے ہونے لگے اور ان واقعات کی ذمہ داری سندھ لبریشن آرمی نامی غیر معروف تنظیم قبول کرنے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب بلوچستان میں مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔

2003 سے پاکستان کے ریاستی ادارے سرگرم ہوئے اور سندھ سے گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ٹنڈو محمد خان، میھڑ، خیرپور ناتھن شاھ، حیدرآباد سمیت کئی شہروں سے درجنوں قومپرست کارکن لاپتہ ہوگئے۔

2005 میں جئے سندھ متحدہ محاذ کے وائس چیئرمین سمیع کلھوڑو بھی لاپتہ افراد میں شامل ہوگئے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ انتہائی زخمی حالت میں ملے اور آخر زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے۔ ان کی تنظیم نے ریاستی اداروں پر تشدد کا الزام عائد کیا۔

کراچی اور جامشورو میں گھروں کے اندر بم دھماکوں میں جئے سندھ متحدہ محاذ کے دو کارکن ممتاز بھٹو اور ذوالفقار کولاچی ہلاک ہوگئی۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ بم بنا رہے تھے کہ دھماکہ ہوا جبکہ ورثا نے اس الزام کو مسترد کیا ان کا موقف تھا کہ گھروں میں بم پھینکے گئے۔

گمشدگیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران جئے سندھ متحدہ محاذ کے مرکزی رہنما انجنیئر مظفر بھٹو، ماجد میمن، مظفر بھٹی، اعجاز سولنگی سمیت دو درجن سے زائد کارکن لاپتہ رہے اور جیسے بلوچستان سے لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا وہ ہی منظر سندھ میں ہی نظر آنے لگا لیکن ان کی تعداد کم تھی۔ مظفر بھٹو کی لاش حیدرآْباد کے قریب سے برآمد ہوئی۔

گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں ایک واقعے نے سندھ میں غم و غصے اور جئے سندھ متحدہ محاذ کے لیے ہمدریوں میں اضافہ کیا۔ اس واقعے میں تنظیم کے اہم رہنما ہلاک ہوگئے۔

سرائی قربان کھاوڑ، روپلو چولیانی، نوراللہ تنیو اور نادر بگٹی نامی رہنما اور کارکن ایک کار میں سانگھڑ جا رہے تھے کہ فائرنگ کے بعد ان کی گاڑی کو آگ نے جکڑ لیا اور نوراللہ تنیو کے علاوہ تینوں جلھس کر ہلاک ہوگئے۔ نوراللہ تنیو نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاستی ادارے کے اہلکاروں نے پہلے فائرنگ کی اس کے بعد پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ بعد میں زخمی نوراللہ بھی جانبر نہیں ہوسکے تھے۔

خیرپور ناتھن شاھ سے دو کارکنوں کی لاشیں ملنے کی ہر مکتب فکر اور جماعت کی جانب سے مذمت سامنے آرہی ہے، اور یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سندھ میں پہلی بار قومپرست جماعتیں اتحاد کی صورت میں انتخابات میں حصہ لی رہی ہیں۔

جئے سندھ متحدہ محاذ نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ تنظیم کے چیئرمین شفیع برفت کا کہنا ہے کہ انتخابات ڈھونگ ہے جس سے پاکستان کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس سے سندھ اپنے حقوق سے مزید محروم ہوگی۔

حکومت پاکستان نے ایک ماہ قبل جہادی تنظیموں کے ساتھ جئے سندھ متحدہ محاذ پر بھی پابندی عائد کی ہے اور اس پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

تنظیم کے چیئرمین شفیع برفت کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت پر پابندی عائد کرکے پاکستان کی ریاست نے سندھ دیش کی جدوجہد کو تسلیم کیا ہے اور اس فیصلے سے ان کی تنظیم مزید مضبوط اور منظم ہوگی۔

جئے سندھ متحدہ محاذ اول کی بنیاد جی ایم سید نے رکھی تھی جس کا مقصد صوبائی خود مختیاری کے لیے جدوجہد تھا۔ بعد میں دوسرے دھڑوں کے میحد ہونے کے بعد اس کا نام جئے سندھ متحدہ محاذ رکھا گیا اور آگے جاکر اس نے جئے سندھ تحریک کی شکل اختیار کی۔

پاکستان کے قیام کے لیے سندھ اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے والے سندھ کے سینئر سیاست دان جی ایم سید نے 1973 میں سندھ دیش کا تصور پیش کیا۔

سندھی ادیب اور تاریخ نویس خادم سومرو کا کہنا ہے کہ یہ وہ ہی وقت جب 1973 کا آئین پیش کیا گیا تھا۔ آئین سازی سے پہلے جی ایم سید نے ذوالفقار علی بھٹو کو صوبائی خود مختاری، مذہبی شدت پسندی اور ڈکٹیٹر شپ کا راستہ روکنے کے لیے تجاویز پیش کی تھیں جنہیں نظر انداز کیا گیا۔

خادم سومرو کے مطابق آئین کے بعد جی ایم سید پارلیمانی سیاست سے بدظن ہوگئے اور ان کا خیال تھا کہ اس آئین کے تحت سندھ کو کبھی حقوق نہیں ملیں گے اور آخر حیدرآباد میں طلبہ کے ایک پروگرام میں انہوں نے پہلی بار سندھو دیش کا تصور پیش کیا۔

سندھ میں جئے سندھ قومی محاذ، جئے سندھ محاذ، جئے سندھ تحریک، جئے سندھ قومپرسٹ پارٹی بھی قوم پرست سیاست کر رہی ہیں اور خود کو جی ایم سید کی پیروکار قرار دیتی ہیں۔ مگر جئے سندھ متحدہ محاذ نے اپنا ایک الگ انداز اختیار کیا ہے، جس کی بلوچ تحریک سے بھی ہم آہنگی موجود ہے، لیکن سندھ کی سیاسی اور معاشی منظر ابھی تک بلوچستان سے کافی مختلف ہے۔

اسی بارے میں