کراچی:’انتخابات کی نگرانی فوج نہیں کرے گی‘

Image caption عبوری سیٹ اپ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے: مسلم لیگ فنکشنل

پاکستان کے صوبہ سندھ کے نگراں حکومت نے کل جماعتی کانفرنس کو بتایا ہے کہ انتخابات کی نگرانی فوج نہیں کرے گی بلکہ صرف انتخابی میٹریل کی تقسیم اور اس کے واپسی کی نگرانی کرے گی۔

نگراں حکومت نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوج کو طلب کیا جا سکے گا۔

دریں اثناء صوبہ بلوچستان میں عام انتخابات کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دس ہزار فوجی اہلکاروں کو تعینات کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے تمام اضلاع میں یہ فوجی اہلکار انتخابات کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

ذرائع کے مطابق فوجی اہلکاروں تمام اضلاع میں موجود ہوں گے اور ان کو انتخابات کے دوران سول انتظامیہ ان اہلکاروں کو ضرورت پڑنے پر طلب کیا جا سکے گا۔

منگل کو سندھ کے نگران وزیراعلیٰ قربان علوی کی زیر صدارت منگل کو کراچی میں ہونے والے کل جماعتی کانفرنس میں بائیس سیاسی، مذہبی، اور قوم پرست جماعتوں نے شرکت کی جہاں سترہ جماعتوں نے پولنگ فوج کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما سردار رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی کے موجودہ حالات میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے، عبوری سیٹ اپ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ بقول ان کے سیاسی جماعتوں میں یہ اتفاق رائے پیدا ہوا ہے کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں ۔

جماعتِ اسلامی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ فنکشنل، جمعیت علما اسلام، جمعیت علما پاکستان سمیت سترہ جماعتوں نے تحریری طور پر یہ مطالبہ وزیراعلیٰ کے حوالے کیا ہے۔ اس تجویز کی پاکستان پیپپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نشینل پارٹی نے مخالفت کی اور تجویز پیش کی کہ سکیورٹی کے لیے پولیس اور رینجرز تعینات کی جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں ایک غیر واضح بات کر رہی ہیں کہ فوج تعینات کی جائے، وہ فوج کو بلا تو رہے ہیں لیکن اسے واپس بھیجے گا کون؟

ان کے مطابق یہ سب کو پتہ ہے کے دھمکیاں کہاں سے آ رہی ہیں۔انہوں نے حکومت سے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن اس پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

بقول تاج حیدر کے بقول جن چند سو لوگوں سے خطرہ ہے ان کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

تاج حیدر کا کہنا تھا کہ پورا حلقہ کیسے حساس ہو سکتا ہے صرف کچھ پولنگ سٹیشنز اس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ماضی کا ریکارڈ لیں اور دیکھیں کہ ایک حلقے میں کس پولنگ سٹیشن پر صرف بیس فیصد ووٹ پڑے ہیں اور اس حلقے کی ایک پولنگ سٹیشن پر اسی فیصد ووٹ پڑے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ٹھپے لگائے گئے ہیں۔

کل جماعتی کانفرنس کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات نورالھدیٰ شاہ نے بریفنگ میں بتایا کہ تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات ہونے چاہیے اور انہیں امن و امان کے حوالے سے بھی خدشات ہیں۔

Image caption پاکستان پیپپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نشینل پارٹی نے تجویز پیش کی کہ سکیورٹی کے لیے پولیس اور رینجرز تعینات کی جائے

سندھ کے چیف سیکرٹری چوہدری اعجاز نے میڈیا کو بتایا کہ سکیورٹی انتظامات کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ایک مجموعی سکیورٹی، دوسرا پولنگ کے دن کی سکیورٹی اور تیسرا انتخابی سامان کی ترسیل کی سکیورٹی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انتخابی میٹریل کی پرنٹنگ، تقسیم اور واپسی فوج کی نگرانی میں کی جائے گی اگر فوج کی مزید معاونت کی ضرورت پڑے گی تو وہ سندھ حکومت کی درخواست پر موجود ہوگی، ضلعی انتظامیہ یا پرزائیڈنگ افسر کی درخواست پر اس کو پولنگ سے پہلے یا پولنگ کے دن تعینات کیا جا سکے گا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ساڑے پانچ ہزار پولنگ سٹیشن انتہائی حساس ہیں ان میں سے تین ہزار کراچی میں ہیں جنہیں چیف سیکرٹری کے مطابق انٹیلیجنس رپورٹس، انتخابی مقابلے کی نوعیت اور ماضی کے ریکارڈ کے تحت حساس قرار دیا گیا ہے۔

چیف سیکرٹری نے بتایا کہ حساس پولنگ سٹیشن کے لیے پاکستانی فوج اور رینجرز کی سٹرائیک فورس کا بندوبست کیا گیا ہے اور ہر پانچ پولنگ سٹیشن کی نگرانی ایک ٹیم کرے گی جبکہ عام پولنگ سٹیشن پر چار سپاہی تعینات کیے جائیں گے۔

حکومت نے سیاسی جماعتوں کو گزارش کی کہ پولنگ کے دن اپنے کیمپ پولنگ سٹیشنز سےچار سو میٹر دور قائم کریں اور شہر سے وال چاکنگ کو ہٹا دیں کیونکہ یہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

اسی بارے میں